صحیح بخاری حدیث ۵۱۰۹ - عورت کو خالہ یا پھوپھی کے ساتھ جمع نہ کرنا

عورت اور اس کی پھوپھی یا خالہ کو نکاح میں جمع کرنے کا حکم

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۰۹

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا ، وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۱۰۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی عورت کو اس کی پھوپھی کے ساتھ جمع نہ کیا جائے اور نہ عورت کو اس کی خالہ کے ساتھ جمع کیا جائے۔ یہ نکاح کے احکام میں ایک صاف اور مختصر اصول ہے۔ یہاں اصل بات یہی ہے کہ ایک شخص کے نکاح میں ایسے قریبی رشتوں والی دو عورتیں ایک ساتھ نہ ہوں۔ جو لوگ محرم رشتے، پھوپھی خالہ نکاح، یا نکاح میں جمع کرنے کی حدیث تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ روایت بہت واضح ہے۔ حدیث کا انداز بھی آسان ہے: نہ پھوپھی کے ساتھ، نہ خالہ کے ساتھ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح میں رشتہ داری کی حدیں جاننا ضروری ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عورت اور اس کی پھوپھی کو ایک نکاح میں جمع کرنا منع ہے۔
  • عورت اور اس کی خالہ کو ایک نکاح میں جمع کرنا بھی منع ہے۔
  • نکاح میں صرف رضامندی نہیں، رشتوں کی شرعی حد بھی دیکھی جاتی ہے۔
  • قریبی رشتوں کے بارے میں حدیث کا حکم صاف لفظوں میں موجود ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں