صحیح بخاری حدیث ۵۱۱۶ - متعہ کے بارے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا جواب
متعہ کی روایت: سخت مجبوری کے سوال پر ابن عباس رضی اللہ عنہما کا جواب
صحیح بخاری : ۵۱۱۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۱۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ ، فَرَخَّصَ ، فَقَالَ لَهُ مَوْلًى لَهُ : إِنَّمَا ذَلِكَ فِي الْحَالِ الشَّدِيدِ ، وَفِي النِّسَاءِ قِلَّةٌ أَوْ نَحْوَهُ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : نَعَمْ " .
ابن عباس روایت:
ان سے عورتوں کے ساتھ نکاح متعہ کرنے کے متعلق سوال کیا گیا تھا تو انہوں نے اس کی اجازت دی، پھر ان کے ایک غلام نے ان سے پوچھا کہ اس کی اجازت سخت مجبوری یا عورتوں کی کمی یا اسی جیسی صورتوں میں ہو گی؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہاں۔ (نوٹ: یہ حرمت سے قبل کی بات ہے بعد میں ہر حالت میں ہر شخص کے لیے متعہ حرام قرار دیا گیا جو قیامت تک کے لیے ہے)۔
صحیح بخاری حدیث ۵۱۱۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوجمرہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے عورتوں کے ساتھ نکاح متعہ کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے رخصت دی۔ پھر ان کے ایک غلام نے پوچھا کہ کیا یہ سخت مجبوری، عورتوں کی کمی، یا اسی جیسی صورتوں میں ہو گی؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ہاں۔ اس روایت کا موضوع متعہ کے بارے میں سوال اور اس کے جواب کی حد ہے۔ یہ متن اجازت کو کھلی اور عام صورت میں نہیں بیان کرتا، بلکہ سوال میں سخت حالت کی بات آئی اور جواب میں اس کی تائید آئی۔ اسی دیے گئے بیچ کی روایت 5115 اور 5119 میں ممانعت اور نسخ کا ذکر بھی موجود ہے، اس لیے اس موضوع کو ایک ہی روایت سے الگ کر کے نہیں سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روایت میں متعہ کے سوال پر ابن عباس رضی اللہ عنہما کا جواب نقل ہوا ہے۔
- غلام کے سوال میں سخت مجبوری اور عورتوں کی کمی کا ذکر آیا۔
- ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسی قید کے جواب میں ہاں کہا۔
- اسی باب کی دوسری روایات کے ساتھ اس مسئلے کو سمجھنا چاہیے۔
