صحیح بخاری حدیث ۵۱۶۵ - ازدواجی تعلق سے پہلے دعا

ہمبستری سے پہلے کی دعا حدیث: بسم اللہ اور حفاظت کی دعا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۶۵

حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ يَقُولُ حِينَ يَأْتِي أَهْلَهُ : بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا ، ثُمَّ قُدِّرَ بَيْنَهُمَا فِي ذَلِكَ أَوْ قُضِيَ وَلَدٌ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا " .

ابن عباس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس ہمبستری کے لیے جب آئے تو یہ دعا پڑھے «باسم الله، اللهم جنبني الشيطان، وجنب الشيطان ما رزقتنا» یعنی میں اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اے اللہ! شیطان کو مجھ سے دور رکھ اور شیطان کو اس چیز سے بھی دور رکھ جو (اولاد) ہمیں تو عطا کرے۔ پھر اس عرصہ میں ان کے لیے کوئی اولاد نصیب ہو تو اسے شیطان کبھی ضرر نہ پہنچا سکے گا۔

صحیح بخاری حدیث ۵۱۶۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی کے پاس جانے سے پہلے ایک دعا سکھائی۔ فرمایا کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس آئے تو کہے: بسم اللہ، اے اللہ! شیطان کو مجھ سے دور رکھ اور شیطان کو اس چیز سے بھی دور رکھ جو تو ہمیں عطا کرے۔ پھر اگر اس تعلق سے اولاد مقدر ہو تو حدیث کے الفاظ کے مطابق شیطان اسے ضرر نہیں پہنچا سکے گا۔ ہمبستری سے پہلے کی دعا حدیث میں ازدواجی زندگی کے ایک نجی موقع پر بھی اللہ کا نام لینے اور حفاظت مانگنے کی تعلیم ہے۔ اس میں دعا کے الفاظ واضح ہیں، اس لیے انہیں بدلنے کے بجائے اسی طرح یاد کرنا بہتر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ازدواجی تعلق سے پہلے اللہ کا نام لینے کی تعلیم دی گئی۔
  • شیطان سے اپنی اور ہونے والی اولاد کی حفاظت مانگی گئی۔
  • دعا کے الفاظ حدیث میں صاف بیان ہوئے ہیں۔
  • نکاح کے نجی معاملات میں بھی دعا اور اللہ کی یاد شامل ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں