صحیح بخاری حدیث ۵۲۵۱ - حیض میں طلاق کا حکم
حیض میں طلاق کی حدیث: صحیح وقت اور رجوع کا حکم
صحیح بخاری : ۵۲۵۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۲۵۱
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، " أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ، ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ، ثُمَّ تَحِيضَ ، ثُمَّ تَطْهُرَ ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدُ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
انہوں نے اپنی بیوی (آمنہ بنت غفار) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں (حالت حیض میں) طلاق دے دی۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہو کہ اپنی بیوی سے رجوع کر لیں اور پھر اپنے نکاح میں باقی رکھیں۔ جب ماہواری (حیض) بند ہو جائے، پھر ماہواری آئے اور پھر بند ہو، تب اگر چاہیں تو اپنی بیوی کو اپنی نکاح میں باقی رکھیں اور اگر چاہیں تو طلاق دے دیں (لیکن طلاق اس طہر میں) ان کے ساتھ ہمبستری سے پہلے ہونا چاہئے۔ یہی (طہر کی) وہ مدت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۲۵۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع طلاق اور عدت ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابن عمر اپنی بیوی سے رجوع کریں، پھر اسے اپنے نکاح میں رکھیں یہاں تک کہ وہ پاک ہو، پھر حیض آئے اور پھر پاک ہو۔ اس کے بعد اگر وہ چاہیں تو رکھیں اور اگر چاہیں تو ہمبستری سے پہلے طلاق دیں۔ حیض میں طلاق کی حدیث میں طلاق کے وقت، عدت اور جلدی سے بچنے کی واضح رہنمائی ملتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حیض کی حالت میں دی گئی طلاق پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجوع کا حکم دیا۔
- طلاق کا معاملہ وقت اور طریقے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
- فیصلہ کرنے سے پہلے شرعی رہنمائی لینا ضروری ہے۔
