صحیح بخاری حدیث ۵۲۹۲ - گمشدہ چیز اور گمشدہ جانور کا حکم

لقطہ کی حدیث: گمشدہ چیز کا اعلان اور امانت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۲۹۲

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ ؟ فَقَالَ : خُذْهَا ، فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ، وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ ، فَغَضِبَ وَاحْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ ، وَقَالَ : مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا الْحِذَاءُ وَالسِّقَاءُ تَشْرَبُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا ، وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ ؟ فَقَالَ : اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا وَعَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ مَنْ يَعْرِفُهَا وَإِلَّا فَاخْلِطْهَا بِمَالِكَ " . قَالَ سُفْيَانُ : فَلَقِيتُ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ سُفْيَانُ : وَلَمْ أَحْفَظْ عَنْهُ شَيْئًا غَيْرَ هَذَا ، فَقُلْتُ : أَرَأَيْتَ حَدِيثَ يَزِيدَ مَوْلَى المُنْبَعِثِ فِي أَمْرِ الضَّالَّةِ هُوَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ يَحْيَى : وَيَقُولُ رَبِيعَةُ : عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ سُفْيَانُ : فَلَقِيتُ رَبِيعَةَ فَقُلْتُ لَهُ .

منبعث کے مولیٰ یزید روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کھوئی ہوئی بکری کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پکڑ لو، کیونکہ یا وہ تمہاری ہو گی (اگر ایک سال تک اعلان کے بعد اس کا مالک نہ ملا)۔ تمہارے کسی بھائی کی ہو گی یا پھر بھیڑیے کی ہو گی (اگر انہی جنگلوں میں پھرتی رہی) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کھوئے ہوئے اونٹ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ غصہ ہو گئے اور غصہ کی وجہ سے آپ کے دونوں رخسار سرخ ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں اس سے کیا غرض! اس کے پاس (مضبوط) کھر ہیں (جس کی وجہ سے چلنے میں اسے کوئی دشواری نہیں ہو گی) اس کے پاس مشکیزہ ہے جس سے وہ پانی پیتا رہے گا اور درخت کے پتے کھاتا رہے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پالے گا۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی رسی کا (جس سے وہ بندھا ہو) اور اس کے ظرف کا (جس میں وہ رکھا ہو) اعلان کرو اور اس کا ایک سال تک اعلان کرو، پھر اگر کوئی ایسا شخص آ جائے جو اسے پہچانتا ہو (اور اس کا مالک ہو تو اسے دے دو) ورنہ اسے اپنے مال کے ساتھ ملا لو۔سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ پھر میں ربیعہ بن عبدالرحمٰن سے ملا اور مجھے ان سے اس کے سوا اور کوئی چیز محفوظ نہیں ہے۔ میں نے ان سے پوچھا تھا کہ گم شدہ چیزوں کے بارے میں منبعث کے مولیٰ یزید کی حدیث کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا وہ زید بن خالد سے منقول ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں (سفیان نے بیان کیا کہ ہاں) یحییٰ نے بیان کیا کہ ربیعہ نے منبعث کے مولیٰ یزید سے بیان کیا، ان سے زید بن خالد نے۔ سفیان نے بیان کیا کہ پھر میں نے ربیعہ سے ملاقات کی اور ان سے اس کے متعلق پوچھا۔

صحیح بخاری حدیث ۵۲۹۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع لقطہ یعنی گمشدہ چیز ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے گمشدہ بکری کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ اسے پکڑ لو، کیونکہ وہ تمہاری، تمہارے بھائی کی، یا بھیڑیے کی ہو گی۔ گمشدہ اونٹ کے بارے میں سوال پر آپ صلى الله عليه وسلم ناراض ہوئے اور فرمایا کہ تمہیں اس سے کیا غرض، اس کے پاس چلنے کے کھر اور پانی رکھنے کی طاقت ہے، وہ پانی پیتا اور درخت کھاتا رہے گا، یہاں تک کہ مالک اسے پا لے۔ لقطہ کے بارے میں آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اس کی پہچان، بندھن اور ظرف کو پہچانو، ایک سال اعلان کرو، پھر مالک آئے تو دے دو، ورنہ اپنے مال میں ملا لو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ہر گمشدہ چیز کا حکم ایک جیسا نہیں ہوتا۔
  • گمشدہ بکری کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔
  • گمشدہ اونٹ کو اس کی طاقت کی وجہ سے چھوڑنے کا حکم آیا۔
  • لقطہ کا ایک سال تک اعلان کرنا حدیث میں بیان ہوا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں