صحیح بخاری حدیث ۵۳۲۰ - نفاس کے بعد نکاح کی اجازت

نفاس کے بعد نکاح: سبیعہ اسلمیہ کی آسان حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۲۰

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، " أَنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ ، فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَأْذَنَتْهُ أَنْ تَنْكِحَ ، فَأَذِنَ لَهَا ، فَنَكَحَتْ " .

مسور بن مخرمہ روایت:

سبیعہ اسلمیہ اپنے شوہر کی وفات کے بعد چند دنوں تک حالت نفاس میں رہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر انہوں نے نکاح کی اجازت مانگی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی اور انہوں نے نکاح کیا۔

صحیح بخاری حدیث ۵۳۲۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کی وفات کے چند دن بعد بچہ جنا۔ پھر وہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آئیں اور نکاح کی اجازت مانگی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں اجازت دی، اور انہوں نے نکاح کر لیا۔ روایت میں اصل بات یہ ہے کہ شوہر کی وفات کے بعد حمل ختم ہو گیا تھا، اس لیے انہوں نے نبی صلى الله عليه وسلم سے اجازت چاہی اور اجازت ملنے کے بعد نکاح کیا۔ یہ حدیث حاملہ بیوہ کی عدت، وضع حمل کے بعد نکاح اور دینی مسئلہ پوچھنے کی اہمیت کو سادہ انداز میں بتاتی ہے۔ اس میں نہ لمبی شرطیں بیان ہوئی ہیں نہ غیر متعلقہ واقعہ، صرف اجازت اور نکاح کا ذکر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • شوہر کی وفات کے بعد سبیعہ رضی اللہ عنہا نے چند دن میں بچہ جنا۔
  • انہوں نے نکاح سے پہلے نبی صلى الله عليه وسلم سے اجازت مانگی۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے اجازت دی، پھر انہوں نے نکاح کیا۔
  • حدیث میں ولادت کے بعد نکاح کی اجازت صاف بیان ہوئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں