صحیح بخاری حدیث ۵۳۴۹ - لعان کے بعد جدائی اور مہر کا مسئلہ

لعان کی حدیث: تہمت، جدائی اور مہر کا حکم

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۴۹

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : " رَجُلٌ قَذَفَ امْرَأَتَهُ ، فَقَالَ : فَرَّقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ ، وَقَالَ : اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ؟ فَأَبَيَا ، فَقَالَ : اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ؟ فَأَبَيَا ، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا " ، قَالَ أَيُّوبُ : فَقَالَ لِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ : فِي الْحَدِيثِ شَيْءٌ لَا أَرَاكَ تُحَدِّثُهُ ، قَالَ : قَالَ الرَّجُلُ : مَالِي ؟ قَالَ : لَا مَالَ لَكَ ، إِنْ كُنْتَ صَادِقًا ، فَقَدْ دَخَلْتَ بِهَا ، وَإِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَهُوَ أَبْعَدُ مِنْكَ .

سعید بن کبیر روایت:

میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی ہو تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنی عجلان کے میاں بیوی میں جدائی کرا دی تھی اور فرمایا تھا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، تو کیا وہ رجوع کرے گا؟ لیکن دونوں نے انکار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے اسے جو تم میں سے ایک جھوٹا ہے وہ توبہ کرتا ہے یا نہیں؟ لیکن دونوں نے پھر توبہ سے انکار کیا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں جدائی کرا دی۔ایوب نے بیان کیا کہ مجھ سے عمرو بن دینار نے کہا کہ یہاں حدیث میں ایک چیز اور ہے میں نے تمہیں اسے بیان کرتے نہیں دیکھا۔ وہ یہ ہے کہ (تہمت لگانے والے) شوہر نے کہا تھا کہ میرا مال (مہر) دلوا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ وہ تمہارا مال ہی نہیں رہا، اگر تم سچے بھی ہو تو تم اس سے خلوت کر چکے ہوا اور اگر جھوٹے ہو تب تو تم کو بطریق اولیٰ کچھ نہ ملنا چاہیئے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۳۴۹ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع لعان ہے، یعنی جب شوہر اپنی بیوی پر سنگین تہمت لگائے اور معاملہ شرعی طریقے سے لعان تک پہنچ جائے۔ روایت میں بنی عجلان کے میاں بیوی کا ذکر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، پھر دونوں کو توبہ کی طرف متوجہ کیا گیا، مگر دونوں نے رجوع نہ کیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں میں جدائی کرا دی۔ شوہر نے اپنا مال یعنی مہر واپس مانگا تو فرمایا گیا کہ وہ تمہارا مال نہیں رہا؛ اگر تم سچے ہو تو خلوت ہو چکی، اور اگر جھوٹے ہو تو مال کا مطالبہ اور دور ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تہمت جیسے معاملے میں بات کو ہلکا نہیں لینا چاہیے۔
  • لعان کے بعد اس روایت میں میاں بیوی کے درمیان جدائی کا ذکر ہے۔
  • شوہر کو مہر واپس نہیں ملا، کیونکہ خلوت ہو چکی تھی۔
  • حدیث میں توبہ کی طرف متوجہ کرنے کا پہلو بھی موجود ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں