صحیح بخاری حدیث ۵۴۲۹ - سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے

سفر عذاب کا ٹکڑا ہے: گھر واپسی کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۲۹

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهُ وَطَعَامَهُ ، فَإِذَا قَضَى نَهْمَتَهُ مِنْ وَجْهِهِ فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، جو انسان کو سونے اور کھانے سے روک دیتا ہے۔ پس جب کسی شخص کی سفری ضرورت حسب منشا پوری ہو جائے تو اسے جلد ہی گھر واپس آ جانا چاہیئے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۴۲۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کی حقیقت کو بہت سادہ الفاظ میں بیان فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، کیونکہ یہ انسان کی نیند اور کھانے کو متاثر کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر میں تکلیف، تھکن، بے آرامی اور معمولات کی تبدیلی عام بات ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ جب آدمی اپنی سفری ضرورت پوری کر لے تو اسے اپنے گھر والوں کی طرف جلدی واپس آنا چاہیے۔ سفر کی حدیث، گھر واپسی کا حکم، اور اہل خانہ کے پاس لوٹنے کی اہمیت اس روایت کا اصل مضمون ہے۔ اس میں غیر ضروری لمبے قیام کی ترغیب نہیں، بلکہ ضرورت پوری ہونے پر واپسی کی ہدایت ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سفر میں مشقت اور معمولات کی خرابی ہو سکتی ہے۔
  • ضرورت پوری ہو جائے تو بلا وجہ سفر کو لمبا نہیں کرنا چاہیے۔
  • گھر والوں کی طرف واپس آنا بھی ایک ذمہ داری ہے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کی عملی مشکل کو تسلیم کیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں