صحیح بخاری حدیث ۵۴۴۷ - کھجور اور ککڑی کھانے کی سنت
کھجور اور ککڑی کی حدیث: نبی صلى الله عليه وسلم کا سادہ کھانا
صحیح بخاری : ۵۴۴۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۴۷
حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْقِثَّاءِ " .
ابن عمر روایت:
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کو ککڑی کے ساتھ کھاتے ہوئے دیکھا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۴۴۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو کھجور کو ککڑی کے ساتھ کھاتے ہوئے دیکھا۔ حدیث کا پیغام بہت سادہ ہے۔ اس میں نبی صلى الله عليه وسلم کے ایک کھانے کا ذکر ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حلال اور پاکیزہ چیزوں کو ساتھ کھانا جائز ہے۔ یہاں کوئی لمبی بحث نہیں، بلکہ ایک عملی واقعہ بیان ہوا ہے۔ کھجور اور ککڑی کی حدیث کو لوگ عموماً سنت غذا، نبی صلى الله عليه وسلم کا کھانا، اور کھانے کے طریقے کے حوالے سے تلاش کرتے ہیں۔ اس روایت سے ہمیں بس اتنی بات ملتی ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے رطب یعنی تازہ کھجور کو قثاء یعنی ککڑی کے ساتھ کھایا۔ اس سے زیادہ حکم یا طبی فائدہ اس متن میں بیان نہیں ہوا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا کھانا سادہ اور پاکیزہ ہوتا تھا۔
- کھجور اور ککڑی کو ساتھ کھانے کا عمل اس حدیث میں ثابت ہے۔
- کسی کھانے کے بارے میں بات کرتے ہوئے حدیث کے اصل متن تک محدود رہنا چاہیے۔
