صحیح بخاری حدیث ۵۴۵۱ - لہسن کھا کر مسجد آنے کا ادب
لہسن کھا کر مسجد آنے کی حدیث: مسجد کے آداب
صحیح بخاری : ۵۴۵۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۵۱
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : قِيلَ لِأَنَسٍ : مَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الثُّومِ ، فَقَالَ : مَنْ أَكَلَ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا " .
عبدالعزیز روایت:
انس رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لہسن کے بارے میں کچھ کہتے نہیں سنا۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص (لہسن) کھائے تو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۴۵۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع مسجد کے آداب ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ انہوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو لہسن کے بارے میں کیا فرماتے سنا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس بارے میں آپ صلى الله عليه وسلم سے یہی سنا کہ جو شخص لہسن کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔ اس حدیث میں لہسن کھانے کو اصل بحث نہیں بنایا گیا، بلکہ مسجد میں آنے سے پہلے دوسروں کو بو سے تکلیف نہ دینے کا ادب بتایا گیا ہے۔ لوگ اس حدیث کو لہسن کھا کر مسجد آنا، مسجد میں بدبو، اور نماز کے آداب جیسے الفاظ سے تلاش کرتے ہیں۔ متن سے معلوم ہوتا ہے کہ نمازیوں کے سکون کا خیال رکھا جائے۔ اس سے بڑھ کر کوئی حکم اس مخصوص روایت میں شامل نہیں کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسجد میں آنے سے پہلے دوسروں کو تکلیف دینے والی بو سے بچنا چاہیے۔
- نماز اور مسجد کے ماحول کا ادب رکھنا ضروری ہے۔
- حدیث میں لہسن کھانے والے کو مسجد کے قریب نہ آنے کی ہدایت آئی ہے۔
