صحیح بخاری حدیث ۵۵۲ - عصر چھوڑنے کا نقصان
عصر کی نماز چھوٹنے کی حدیث: بڑی محرومی کا بیان
صحیح بخاری : ۵۵۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۵۲
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ كَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ " ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : يَتِرَكُمْ وَتَرْتُ الرَّجُلَ إِذَا قَتَلْتَ لَهُ قَتِيلًا أَوْ أَخَذْتَ لَهُ مَالًا .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس کی نماز عصر چھوٹ گئی گویا اس کا گھر اور مال سب لٹ گیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ سورۃ محمد میں جو «يترکم» کا لفظ آیا ہے وہ «وتر» سے نکالا گیا ہے۔ «وتر» کہتے ہیں کسی شخص کا کوئی آدمی مار ڈالنا یا اس کا مال چھین لینا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۵۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے عصر کی نماز چھوٹ جانے کی سنگینی کو بہت مضبوط مثال سے سمجھایا۔ فرمایا کہ جس کی عصر کی نماز چھوٹ گئی، گویا اس کا گھر اور مال سب لٹ گیا۔ حدیث کے آخر میں امام بخاری رحمہ اللہ نے لفظی وضاحت بھی نقل کی ہے کہ وتر کا تعلق نقصان، قتل یا مال چھن جانے کے معنی سے ہے۔ اس روایت کا اصل پیغام یہ ہے کہ عصر کی نماز کو معمولی نہ سمجھا جائے۔ یہاں کسی شخص کی نیت یا حالات کی تفصیل نہیں دی گئی، بلکہ نماز عصر کے فوت ہونے کی بڑی محرومی بیان کی گئی ہے۔ عصر کی نماز، نماز وقت پر پڑھنا، اور نماز چھوٹنے کا نقصان اس حدیث کے اہم موضوعات ہیں۔ ایک مسلمان کے لیے یہ روایت نرم مگر سنجیدہ یاد دہانی ہے کہ دن کے مصروف وقت میں بھی عصر کا خیال رکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عصر کی نماز چھوٹنے کو بڑی محرومی سے تشبیہ دی گئی ہے۔
- حدیث نماز عصر کی حفاظت پر سنجیدہ توجہ دلاتی ہے۔
- مال اور اہل کے نقصان کی مثال سے بات کو بہت واضح کیا گیا ہے۔
- نماز کے وقت کو نظر انداز کرنا معمولی بات نہیں سمجھنی چاہیے۔
