صحیح بخاری حدیث ۵۵۳۱ - مردار جانور کے چمڑے سے فائدہ

مردار جانور کا چمڑا: کھانا حرام، فائدہ الگ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۵۳۱

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ : أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ ، فَقَالَ : هَلَّا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا ؟ قَالُوا إِنَّهَا مَيِّتَةٌ ، قَالَ : إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا " .

عبداللہ بن عباس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مری ہوئی بکری کے قریب سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا؟ لوگوں نے کہا کہ یہ تو مری ہوئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صرف اس کا کھانا حرام کیا گیا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۵۳۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ایک مری ہوئی بکری کے پاس سے گزرے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا؟ لوگوں نے کہا کہ یہ تو مری ہوئی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ صرف اس کا کھانا حرام کیا گیا ہے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع مردار جانور کے چمڑے سے فائدہ ہے۔ یہاں کھانے اور غیر کھانے کے استعمال میں فرق بتایا گیا ہے۔ حدیث بہت عملی انداز میں سکھاتی ہے کہ جس چیز کا کھانا حرام ہو، اس سے ہر طرح کا فائدہ خود بخود منع نہیں سمجھا جائے گا، جب تک دلیل موجود نہ ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مردار جانور کا کھانا حرام ہے، جیسا کہ حدیث میں صاف بیان ہوا۔
  • چمڑے سے فائدہ اٹھانے کی طرف توجہ دلائی گئی۔
  • کسی حکم کو سمجھتے وقت کھانے اور استعمال کے فرق کو دیکھا جاتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں