صحیح بخاری حدیث ۵۵۴ - فجر اور عصر کی حفاظت
فجر اور عصر کی نماز: چاند والی حدیث کا پیغام
صحیح بخاری : ۵۵۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۵۴
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرِ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةً يَعْنِي الْبَدْرَ ، فَقَالَ : " إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ ، لَا تُضَامُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا ، ثُمَّ قَرَأَ : وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ سورة ق آية 39 " ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ : افْعَلُوا لَا تَفُوتَنَّكُمْ .
جریر بن عبداللہ بجلی روایت:
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند پر ایک نظر ڈالی پھر فرمایا کہ تم اپنے رب کو (آخرت میں) اسی طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو اب دیکھ رہے ہو۔ اس کے دیکھنے میں تم کو کوئی زحمت بھی نہیں ہو گی، پس اگر تم ایسا کر سکتے ہو کہ سورج طلوع ہونے سے پہلے والی نماز (فجر) اور سورج غروب ہونے سے پہلے والی نماز (عصر) سے تمہیں کوئی چیز روک نہ سکے تو ایسا ضرور کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ ” پس اپنے مالک کی حمد و تسبیح کر سورج طلوع ہونے اور غروب ہونے سے پہلے۔ “ اسماعیل (راوی حدیث) نے کہا کہ (عصر اور فجر کی نمازیں) تم سے چھوٹنے نہ پائیں۔ ان کا ہمیشہ خاص طور پر دھیان رکھو۔
صحیح بخاری حدیث ۵۵۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس موجود تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے چاند کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ تم اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو، اور اس دیکھنے میں زحمت نہ ہو گی۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر تم کر سکتے ہو تو سورج نکلنے سے پہلے والی نماز اور سورج غروب ہونے سے پہلے والی نماز سے کوئی چیز تمہیں روک نہ دے۔ روایت میں سورۃ ق کی آیت بھی پڑھی گئی۔ متن کے مطابق یہاں فجر اور عصر کی خاص حفاظت کی تاکید ہے۔ اس حدیث کو بیان کرتے ہوئے رب کی رؤیت کے معاملے میں وہی الفاظ کافی ہیں جو حدیث میں آئے ہیں، اور نماز کے حصے میں فجر و عصر کی پابندی کو مرکزی پیغام سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں آخرت میں رب کو دیکھنے کا ذکر چاند کی مثال سے آیا ہے۔
- فجر اور عصر کی نماز سے غفلت نہ ہونے کی تاکید کی گئی۔
- آیت کی تلاوت سے صبح و شام تسبیح کی طرف توجہ دلائی گئی۔
- یہ روایت عبادت اور عقیدے دونوں پہلوؤں کو مختصر انداز میں بیان کرتی ہے۔
