صحیح بخاری حدیث ۵۵۸۰ - کھجور سے بنی شراب کا ذکر
مدینہ میں شراب زیادہ تر کچی اور پکی کھجور سے بنتی تھی
صحیح بخاری : ۵۵۸۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۵۸۰
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " حُرِّمَتْ عَلَيْنَا الْخَمْرُ حِينَ حُرِّمَتْ وَمَا نَجِدُ يَعْنِي بِالْمَدِينَةِ خَمْرَ الْأَعْنَابِ إِلَّا قَلِيلًا ، وَعَامَّةُ خَمْرِنَا الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ " .
انس روایت:
جب شراب ہم پر حرام کی گئی تو مدینہ منورہ میں انگور کی شراب بہت کم ملتی تھی۔ عام استعمال کی شراب کچی اور پکی کھجور سے تیار کی جاتی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۵۵۸۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں انس رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ جب شراب حرام کی گئی تو مدینہ منورہ میں انگور کی شراب بہت کم ملتی تھی۔ عام طور پر جو شراب استعمال ہوتی تھی وہ کچی اور پکی کھجور سے تیار کی جاتی تھی۔ اس روایت کا اصل فائدہ یہ ہے کہ شراب کا حکم صرف انگور کے مشروب تک محدود نہیں تھا۔ مدینہ میں اصل استعمال کھجور سے بننے والے مشروب کا تھا، اور حرمت کے وقت وہی زیادہ معروف تھا۔ اس سے لفظ خمر اور شراب کی حقیقت کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ حدیث میں کوئی لمبی بحث نہیں، بس ایک تاریخی اور عملی بات بتائی گئی ہے کہ اس زمانے کی عام شراب کس چیز سے بنتی تھی۔ لہٰذا شراب کے بارے میں بات کرتے وقت صرف نام نہیں، بلکہ نشہ لانے والی حقیقت کو بھی دیکھا جاتا ہے، جیسا کہ اسی باب کی دوسری روایات میں آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مدینہ میں انگور کی شراب بہت کم تھی۔
- عام شراب کچی اور پکی کھجور سے بنائی جاتی تھی۔
- شراب کا حکم صرف انگور کے مشروب تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے۔
- حدیث اس زمانے کے عام استعمال کو واضح کرتی ہے۔
