صحیح بخاری حدیث ۵۶۴۹ - بھوکے، مریض اور قیدی کا حق

مریض کی عیادت اور بھوکے کو کھانا کھلانے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۶۴۹

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَطْعِمُوا الْجَائِعَ ، وَعُودُوا الْمَرِيضَ ، وَفُكُّوا الْعَانِيَ " .

ابوموسیٰ اشعری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بھوکے کو کھانا کھلاؤ اور مریض کی عیادت یعنی مزاج پرسی کرو اور قیدی کو چھڑاؤ۔

صحیح بخاری حدیث ۵۶۴۹ کا خلاصہ

یہ مختصر مگر بہت جامع حدیث ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے تین واضح کاموں کا حکم دیا: بھوکے کو کھانا کھلاؤ، مریض کی عیادت کرو، اور قیدی کو چھڑاؤ۔ اس حدیث میں اسلام کے سماجی حقوق صاف نظر آتے ہیں۔ یہاں بات صرف عبادت کی نہیں، بلکہ انسانوں کے دکھ درد میں شریک ہونے کی ہے۔ بھوکا آدمی کھانے کا محتاج ہے، مریض دل جوئی اور مزاج پرسی کا محتاج ہے، اور قیدی رہائی یا مدد کا محتاج ہے۔ اس لیے اس حدیث کے لیے اہم سرچ الفاظ مریض کی عیادت کی حدیث، بھوکے کو کھانا کھلانا، قیدی کو آزاد کرانا اور حقوق العباد حدیث ہیں۔ متن سے جو بات صاف نکلتی ہے وہ یہ ہے کہ مسلمان معاشرے میں کمزور اور ضرورت مند لوگوں کو نظر انداز نہیں کیا جاتا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بھوکے کو کھانا کھلانا نبی صلى الله عليه وسلم کے حکم میں شامل ہے۔
  • مریض کی عیادت کرنا مسلمانوں کا اہم اخلاقی عمل ہے۔
  • قیدی کی رہائی یا مدد کے لیے کوشش کرنا پسندیدہ عمل ہے۔
  • اسلام ضرورت مند انسان کی مدد کو اہمیت دیتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں