صحیح بخاری حدیث ۵۶۵۴ - مدینہ کی محبت اور صحت کی دعا
مدینہ کے لیے نبی صلى الله عليه وسلم کی دعا: محبت، صحت اور برکت
صحیح بخاری : ۵۶۵۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۶۵۴
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ ، وَبِلَالٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَتْ : فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا ، قُلْتُ : يَا أَبَتِ كَيْفَ تَجِدُكَ ؟ وَيَا بِلَالُ كَيْفَ تَجِدُكَ ؟ قَالَتْ : وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى يَقُولُ : كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ ، وَكَانَ بِلَالٌ إِذَا أَقْلَعَتْ عَنْهُ يَقُولُ : أَلَا لَيْتَ شِعْرِي ، هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مِجَنَّةٍ وَهَلْ تَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ ، أَوْ أَشَدَّ ، اللَّهُمَّ وَصَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّهَا ، وَصَاعِهَا ، وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ " .
عائشہ روایت:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ اور بلال رضی اللہ عنہ کو بخار ہو گیا۔ بیان کیا کہ پھر میں ان کے پاس (عیادت کے لیے) گئی اور پوچھا، محترم والد بزرگوار آپ کا مزاج کیسا ہے؟ بلال رضی اللہ عنہ سے بھی پوچھا کہ آپ کا کیا حال ہے؟بیان کیا کہ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بخار ہوا تو وہ یہ شعر پڑھا کرتے تھے ”ہر شخص اپنے گھر والوں میں صبح کرتا ہے اور موت اس کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے۔“ اور بلال رضی اللہ عنہ کو جب افاقہ ہوتا تو یہ شعر پڑھتے تھے ”کاش مجھے معلوم ہوتا کہ کیا پھر ایک رات وادی میں گزار سکوں گا اور میرے چاروں طرف اذخر اور جلیل (مکہ مکرمہ کی گھاس) کے جنگل ہوں گے اور کیا میں کبھی مجنہ (مکہ سے چند میل کے فاصلہ پر ایک بازار) کے پانی پر اتروں گا اور کیا پھر کبھی شامہ اور طفیل (مکہ کے قریب دو پہاڑوں) کو میں اپنے سامنے دیکھ سکوں گا۔“عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کو اس کی اطلاع دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اے اللہ! ہمارے دل میں مدینہ کی محبت بھی اتنی ہی کر دے جتنی مکہ کی محبت ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور اس کی آب و ہوا کو ہمارے موافق کر دے اور ہمارے لیے اس کے مد اور صاع میں برکت عطا فرما، اللہ اس کا بخار کہیں اور جگہ منتقل کر دے اسے مقام جحفہ میں بھیج دے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۶۵۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مدینہ آنے کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ اور بلال رضی اللہ عنہ کو بخار ہو گیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی عیادت کے لیے گئیں اور ان کا حال پوچھا۔ پھر انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو یہ خبر دی۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے دعا فرمائی کہ اے اللہ ہمارے دلوں میں مدینہ کی محبت مکہ جیسی، بلکہ اس سے بھی زیادہ کر دے، مدینہ کی آب و ہوا ہمارے موافق کر دے، اس کے مد اور صاع میں برکت دے، اور اس کا بخار جحفہ کی طرف منتقل کر دے۔ اس حدیث کا اصل موضوع مدینہ کی دعا، بیماری میں دعا اور شہر کے لیے برکت کی دعا ہے۔ متن سے یہ بات صاف ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے تکلیف سن کر دعا کی اور مدینہ کے لیے محبت، صحت اور برکت مانگی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیماری کی خبر ملے تو دعا کرنا نبی صلى الله عليه وسلم کا طریقہ ہے۔
- مدینہ کے لیے محبت، صحت اور برکت کی دعا کی گئی۔
- عیادت میں مریض کا حال پوچھنا اچھا عمل ہے۔
- مشکل وقت میں اللہ سے بہتری مانگنی چاہیے۔
