صحیح بخاری حدیث ۵۶۷۸ - ہر بیماری کا علاج موجود ہے
ہر بیماری کا علاج: شفا اللہ کے حکم سے ہے
صحیح بخاری : ۵۶۷۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۶۷۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلاَّ أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً».
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی دوا بھی نازل نہ کی ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۵۶۷۸ کا خلاصہ
یہ حدیث علاج، بیماری اور شفا کے بارے میں ایک بہت سادہ مگر حوصلہ دینے والی بات بتاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی دوا بھی نازل نہ کی ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیماری انسان پر آ سکتی ہے، مگر اس کے ساتھ شفا کا سبب بھی اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ مسلمان بیماری کے وقت مایوس نہ ہو، بلکہ علاج کی کوشش کرے اور شفا اللہ سے مانگے۔ “بیماری کی حدیث”، “علاج کی حدیث” اور “شفا کی حدیث” جیسے الفاظ اسی معنی کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس روایت میں کسی خاص بیماری، خاص دوا یا خاص طریقہ علاج کا ذکر نہیں، اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے کہ بیماری اور دوا دونوں اللہ کے علم اور حکم کے تحت ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ تعالیٰ نے بیماری کے ساتھ شفا کا سبب بھی رکھا ہے۔
- بیماری کے وقت مایوسی کے بجائے علاج کی کوشش کرنی چاہیے۔
- دوا کو سبب سمجھا جائے، اصل شفا اللہ کے اختیار میں ہے۔
- اس حدیث میں کسی ایک خاص دوا کو ہر بیماری کے لیے مقرر نہیں کیا گیا۔
