صحیح بخاری حدیث ۵۶۸۶ - عرینہ کا واقعہ اور عدل
عرینہ کا واقعہ: علاج، خیانت اور عدل کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۶۸۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۶۸۶
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " أَنَّ نَاسًا اجْتَوَوْا فِي الْمَدِينَةِ فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْحَقُوا بِرَاعِيهِ يَعْنِي الْإِبِلَ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ، فَلَحِقُوا بِرَاعِيهِ فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا حَتَّى صَلَحَتْ أَبْدَانُهُمْ ، فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ ، وَسَاقُوا الْإِبِلَ ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَعَثَ فِي طَلَبِهِمْ ، فَجِيءَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ " ، قَالَ قَتَادَةُ : فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، أَنَّ ذَلِكَ كَانَ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْحُدُودُ .
انس روایت:
عرینہ کے) کچھ لوگوں کو مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہیں آئی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ وہ آپ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم) کے چرواہے کے ہاں چلے جائیں یعنی اونٹوں میں اور ان کا دودھ اور پیشاب پئیں۔ چنانچہ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کے پاس چلے گئے اور اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا جب وہ تندرست ہو گئے تو انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہانک کر لے گئے۔آپ کو جب اس کا علم ہوا تو آپ نے انہیں تلاش کرنے کے لیے لوگوں کو بھیجا جب انہیں لایا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان کے بھی ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیئے گئے اور ان کی آنکھوں میں سلائی پھیر دی گئی (جیسا کہ انہوں نے چرواہے کے ساتھ کیا تھا)۔قتادہ نے بیان کیا کہ مجھ سے محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ یہ حدود کے نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۶۸۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع علاج کے ساتھ عدل اور جرم کا انجام بھی ہے۔ کچھ لوگوں کو مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی تو نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے انہیں اونٹوں کے پاس جانے اور ان کا دودھ اور پیشاب پینے کا حکم دیا۔ وہ تندرست ہوئے، مگر پھر انہوں نے چرواہے کو قتل کیا اور اونٹ لے گئے۔ جب خبر پہنچی تو انہیں تلاش کر کے لایا گیا اور ان کے ساتھ سخت معاملہ کیا گیا۔ روایت کے آخر میں محمد بن سیرین کا قول آتا ہے کہ یہ واقعہ حدود کے نازل ہونے سے پہلے کا تھا۔ اس لیے اس حدیث کو پڑھتے وقت دونوں باتیں ساتھ رکھنی چاہییں: بیماری میں علاج کی رہنمائی، اور پھر ایک بڑے جرم کا ذکر۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیماری کی حالت میں علاج کی طرف رہنمائی کرنا نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی شفقت کا حصہ تھا۔
- تندرستی کے بعد ظلم، قتل اور مال لے جانا بہت سنگین جرم ہے۔
- حدیث کے آخر میں بتایا گیا کہ یہ واقعہ حدود کے نزول سے پہلے پیش آیا۔
- کسی روایت کو سمجھتے وقت اس کے آخر میں آئے ہوئے وضاحتی الفاظ کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
