صحیح بخاری حدیث ۵۷۳۶ - سورۃ فاتحہ سے دم اور اجرت کا واقعہ

سورۃ فاتحہ سے دم: بچھو کے کاٹے ہوئے شخص کا واقعہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۳۶

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَوْا عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَلَمْ يَقْرُوهُمْ ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ لُدِغَ سَيِّدُ أُولَئِكَ ، فَقَالُوا : هَلْ مَعَكُمْ مِنْ دَوَاءٍ أَوْ رَاقٍ ، فَقَالُوا : إِنَّكُمْ لَمْ تَقْرُونَا وَلَا نَفْعَلُ حَتَّى تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلًا ، فَجَعَلُوا لَهُمْ قَطِيعًا مِنَ الشَّاءِ ، فَجَعَلَ يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ، وَيَجْمَعُ بُزَاقَهُ ، وَيَتْفِلُ ، فَبَرَأَ فَأَتَوْا بِالشَّاءِ ، فَقَالُوا : لَا نَأْخُذُهُ حَتَّى نَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلُوهُ فَضَحِكَ ، وَقَالَ : وَمَا أَدْرَاكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ خُذُوهَا وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ " .

ابو سعید خدری روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ در حالت سفر عرب کے ایک قبیلہ پر گزرے۔ قبیلہ والوں نے ان کی ضیافت نہیں کی کچھ دیر بعد اس قبیلہ کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا، اب قبیلہ والوں نے ان صحابہ سے کہا کہ آپ لوگوں کے پاس کوئی دوا یا کوئی جھاڑنے والا ہے۔ صحابہ نے کہا کہ تم لوگوں نے ہمیں مہمان نہیں بنایا اور اب ہم اس وقت تک دم نہیں کریں گے جب تک تم ہمارے لیے اس کی مزدوری نہ مقرر کر دو۔چنانچہ ان لوگوں نے چند بکریاں دینی منظور کر لیں پھر (ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ) سورۃ فاتحہ پڑھنے لگے اور اس پر دم کرنے میں منہ کا تھوک بھی اس جگہ پر ڈالنے لگے۔ اس سے وہ شخص اچھا ہو گیا۔ چنانچہ قبیلہ والے بکریاں لے کر آئے لیکن صحابہ نے کہا کہ جب تک ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پوچھ لیں یہ بکریاں نہیں لے سکتے پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ مسکرائے اور فرمایا تمہیں کیسے معلوم ہو گیا تھا کہ سورۃ فاتحہ سے دم بھی کیا جا سکتا ہے، ان بکریوں کو لے لو اور اس میں میرا بھی حصہ لگاؤ۔

صحیح بخاری حدیث ۵۷۳۶ کا خلاصہ

اس حدیث کا بنیادی موضوع سورۃ فاتحہ سے دم ہے۔ چند صحابہ سفر میں ایک عرب قبیلے کے پاس پہنچے، مگر قبیلے والوں نے ان کی مہمان نوازی نہ کی۔ پھر اسی قبیلے کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا۔ قبیلے والوں نے صحابہ سے دوا یا دم کرنے والے کے بارے میں پوچھا۔ صحابہ نے کہا کہ جب تک اجرت طے نہ ہو ہم دم نہیں کریں گے، پھر بکریوں پر بات طے ہوئی۔ ایک صحابی نے سورۃ فاتحہ پڑھی، دم کیا، اور وہ شخص ٹھیک ہو گیا۔ جب بکریاں ملیں تو صحابہ نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے پوچھے بغیر لینے کو مناسب نہ سمجھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے مسکرا کر فرمایا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ سورۃ فاتحہ دم ہے؟ انہیں لے لو اور میرے لیے بھی حصہ رکھو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سورۃ فاتحہ سے دم کرنے کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
  • صحابہ نے اجرت لینے سے پہلے نبی صلى الله عليه وسلم سے پوچھنا ضروری سمجھا۔
  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بکریاں لینے کی اجازت دی۔
  • حدیث میں سورۃ فاتحہ کو دم کے طور پر استعمال کرنے کا واقعہ بیان ہوا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں