صحیح بخاری حدیث ۵۷۸۲ - برتن میں مکھی گرنے کا حکم
مکھی والی حدیث: برتن میں مکھی گر جائے تو کیا کیا جائے؟
صحیح بخاری : ۵۷۸۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۸۲
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ مَوْلَى بَنِي تَيْمٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ مَوْلَى بَنِي زُرَيْقٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ، ثُمَّ لْيَطْرَحْهُ، فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ شِفَاءً وَفِي الآخَرِ دَاءً».
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب مکھی تم میں سے کسی کے برتن میں پڑ جائے تو پوری مکھی کو برتن میں ڈبو دے اور پھر اسے نکال کر پھینک دے کیونکہ اس کے ایک پر میں شفاء اور دوسرے میں بیماری ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۵۷۸۲ کا خلاصہ
یہ مکھی والی حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو پوری مکھی کو برتن میں ڈبو دے، پھر اسے نکال کر پھینک دے۔ وجہ یہ بیان فرمائی کہ اس کے ایک پر میں شفا ہے اور دوسرے میں بیماری ہے۔ حدیث کا اصل موضوع یہی خاص صورت ہے کہ مکھی برتن میں گر جائے تو کیا کیا جائے۔ اس میں ایک عملی ہدایت دی گئی ہے اور اس کے ساتھ وجہ بھی بیان ہوئی ہے۔ تشریح میں حدیث کے الفاظ سے آگے بڑھ کر دعوے کرنے کے بجائے یہی بات سمجھانی چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاص حالت میں مکمل ڈبونے اور پھر پھینکنے کا حکم دیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- برتن میں مکھی گرنے کی خاص صورت کا حکم حدیث میں آیا ہے۔
- مکھی کو مکمل ڈبو کر پھر نکالنے اور پھینکنے کی ہدایت ہے۔
- حدیث میں ایک پر میں شفا اور دوسرے میں بیماری کا ذکر ہے۔
