صحیح بخاری حدیث ۵۸۳۸ - سرخ میاثر اور قسی سے ممانعت
سرخ میاثر اور قسی سے ممانعت: لباس میں نبوی ہدایت
صحیح بخاری : ۵۸۳۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۸۳۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " نَهَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَيَاثِرِ الْحُمْرِ وَالْقَسِّيِّ " .
ابن عازب روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سرخ «ميثرة» اور «قسي» کے پہننے سے منع فرمایا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۸۳۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع لباس ہے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ہمیں سرخ میاثر اور قسی کے پہننے سے منع فرمایا۔ روایت مختصر ہے، مگر لباس کے باب میں اہم ہے۔ حدیث کے الفاظ میں خاص دو چیزوں کا ذکر ہے: سرخ میاثر اور قسی۔ اس لیے اس کی تشریح کرتے ہوئے ہمیں اسی حد تک بات رکھنی چاہیے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے ان کے پہننے سے منع فرمایا۔ لباس صرف جسم ڈھانپنے کا نام نہیں، بلکہ مسلمان کے لیے اس میں بھی نبی صلى الله عليه وسلم کی ہدایت اہم ہے۔ سرخ میاثر کی حدیث، قسی لباس، لباس کی ممانعت، اسلامی لباس اور براء بن عازب حدیث اس روایت کے متعلقہ سرچ الفاظ ہیں۔ یہ حدیث ہمیں سادہ انداز میں بتاتی ہے کہ کچھ کپڑے یا انداز ایسے بھی ہو سکتے ہیں جن سے شریعت نے روکا ہو، اس لیے لباس میں دینی رہنمائی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے سرخ میاثر پہننے سے منع فرمایا۔
- قسی کے پہننے سے بھی منع کیا گیا ہے۔
- لباس کے معاملے میں حدیث کی ہدایت کو اہم سمجھنا چاہیے۔
- مختصر حکم کو بھی سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
