صحیح بخاری حدیث ۵۸۴۱ - ریشمی جوڑا بیچنے یا پہنانے کی اجازت

ریشمی جوڑا: پہننا نہیں، بیچنا یا کسی کو پہنانا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۸۴۱

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، رَأَى حُلَّةَ سِيَرَاءَ تُبَاعُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ ابْتَعْتَهَا تَلْبَسُهَا لِلْوَفْدِ إِذَا أَتَوْكَ وَالْجُمُعَةِ ، قَالَ : " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ " وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ حُلَّةَ سِيَرَاءَ حَرِيرٍ كَسَاهَا إِيَّاهُ ، فَقَالَ عُمَرُ : كَسَوْتَنِيهَا ، وَقَدْ سَمِعْتُكَ تَقُولُ فِيهَا مَا قُلْتَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا بَعَثْتُ إِلَيْكَ لِتَبِيعَهَا أَوْ تَكْسُوَهَا " .

عبداللہ بن عمر روایت:

عمر رضی اللہ عنہ نے ریشمی دھاریوں والا ایک جوڑا فروخت ہوتے دیکھا تو عرض کیا کہ یا رسول اللہ! بہتر ہے کہ آپ اسے خرید لیں اور وفود سے ملاقات کے وقت اور جمعہ کے دن اسے زیب تن کیا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے وہ پہنتا ہے جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں ہوتا۔اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ریشم کی دھاریوں والا ایک جوڑا حلہ بھیجا، ہدیہ کے طور پر۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا آپ نے مجھے یہ جوڑا حلہ عنایت فرمایا ہے حالانکہ میں خود آپ سے اس کے بارے میں وہ بات سن چکا ہوں جو آپ نے فرمائی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہیں یہ کپڑا اس لیے دیا ہے کہ اسے بیچ دو یا (عورتوں وغیرہ میں سے) کسی کو پہنا دو۔

صحیح بخاری حدیث ۵۸۴۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع لباس ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک ریشمی دھاریوں والا جوڑا دیکھا اور عرض کیا کہ نبی صلى الله عليه وسلم اسے وفود سے ملاقات اور جمعہ کے دن پہنیں۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اسے وہ پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ بعد میں آپ صلى الله عليه وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اسی قسم کا جوڑا بھیجا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حیرت سے عرض کیا کہ آپ نے مجھے یہ دیا حالانکہ میں آپ سے اس کے بارے میں وہ بات سن چکا ہوں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہیں اس لیے دیا ہے کہ اسے بیچ دو یا کسی کو پہنا دو۔ اس حدیث میں ریشمی لباس کا حکم، مردوں کے لیے ریشم، کپڑا بیچنے کی اجازت اور عورتوں کو پہنانے کا اشارہ سمجھ آتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہر چیز جو ملکیت میں آئے، لازم نہیں کہ اسے خود پہننا بھی درست ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ریشمی جوڑا مرد کے لیے پہننے کے لیے نہیں تھا۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے اسے بیچنے یا کسی کو پہنانے کا راستہ بتایا۔
  • حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حکم سمجھنے کے لیے سوال کیا۔
  • کسی چیز کا ملنا اس کے ہر استعمال کو جائز نہیں بنا دیتا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں