صحیح بخاری حدیث ۵۸۷۵ - روم کو خط اور چاندی کی مہر
روم کو خط والی حدیث: چاندی کی انگوٹھی اور نبوی مہر
صحیح بخاری : ۵۸۷۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۸۷۵
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ قِيلَ لَهُ : إِنَّهُمْ لَنْ يَقْرَءُوا كِتَابَكَ إِذَا لَمْ يَكُنْ مَخْتُومًا ، " فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ وَنَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ " فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ .
انس بن مالک روایت:
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روم (کے بادشاہ کو) خط لکھانا چاہا تو آپ سے کہا گیا کہ اگر آپ کے خط پر مہر نہ ہوئی تو وہ خط نہیں پڑھتے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اس پر لفظ «محمد رسول الله» کندہ کرایا۔ جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اس کی سفیدی اب بھی میں دیکھ رہا ہوں۔
صحیح بخاری حدیث ۵۸۷۵ کا خلاصہ
یہ حدیث بتاتی ہے کہ جب نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے روم کے بادشاہ کو خط لکھنا چاہا تو آپ صلى الله عليه وسلم سے کہا گیا کہ اگر خط پر مہر نہ ہو تو وہ اسے نہیں پڑھتے۔ اس کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس پر «محمد رسول الله» کندہ کرایا۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ گویا وہ نبی صلى الله عليه وسلم کے ہاتھ میں اس انگوٹھی کی سفیدی دیکھ رہے ہیں۔ اس روایت میں مہر والی انگوٹھی کا استعمال ایک عملی ضرورت کے لیے ہے، یعنی خط کو معتبر بنانے کے لیے۔ اس لیے مرکزی الفاظ ہیں: روم کو خط، نبوی مہر، چاندی کی انگوٹھی، اور محمد رسول اللہ کا نقش۔ اس حدیث میں سادگی سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے خط بھیجتے وقت ایسا طریقہ اختیار کیا جس سے مخاطب لوگ خط پڑھیں اور قبول کریں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روم کو خط بھیجنے کے لیے مہر کی ضرورت بتائی گئی۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بطور مہر بنوائی۔
- انگوٹھی پر «محمد رسول الله» کندہ تھا۔
- انس رضی اللہ عنہ نے اس کی سفیدی کو یاد رکھا۔
