صحیح بخاری حدیث ۵۸۹۶ - موئے مبارک
موئے مبارک اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت
صحیح بخاری : ۵۸۹۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۸۹۶
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ : " أَرْسَلَنِي أَهْلِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ ، وَقَبَضَ إِسْرَائِيلُ ثَلَاثَ أَصَابِعَ مِنْ قُصَّةٍ فِيهِ شَعَرٌ مِنْ شَعَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ إِذَا أَصَابَ الْإِنْسَانَ عَيْنٌ أَوْ شَيْءٌ بَعَثَ إِلَيْهَا مِخْضَبَهُ فَاطَّلَعْتُ فِي الْجُلْجُلِ فَرَأَيْتُ شَعَرَاتٍ حُمْرًا "
عثمان بن عبداللہ بن وہب روایت:
میرے گھر والوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس پانی کا ایک پیالہ لے کر بھیجا (راوی حدیث) اسرائیل راوی نے تین انگلیاں بند کر لیں یعنی وہ اتنی چھوٹی پیالی تھی اس پیالی میں بالوں کا ایک گچھا تھا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں میں سے کچھ بال تھے۔ عثمان نے کہا جب کسی شخص کو نظر لگ جاتی یا اور کوئی بیماری ہوتی تو وہ اپنا پانی کا برتن بی بی ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج دیتا۔ (وہ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ڈبو دیتیں) عثمان نے کہا کہ میں نے نلکی کو دیکھا (جس میں موئے مبارک رکھے ہوئے تھے) تو سرخ سرخ بال دکھائی دیئے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۸۹۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع موئے مبارک ہے۔ عثمان بن عبداللہ بن موہب بیان کرتے ہیں کہ ان کے گھر والوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس پانی کا ایک چھوٹا پیالہ بھیجا۔ روایت میں بتایا گیا کہ ان کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں میں سے کچھ بال تھے۔ جب کسی شخص کو نظر لگ جاتی یا کوئی بیماری ہوتی تو وہ اپنا پانی کا برتن ان کے پاس بھیجتا۔ راوی نے نلکی میں دیکھا تو سرخ سرخ بال دکھائی دیے۔ اس حدیث میں اصل بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے محفوظ بالوں کا ذکر، ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ان کی موجودگی، اور ان بالوں کا سرخی مائل ہونا ہے۔ اس سے زیادہ دعوے کرنے کے بجائے متن کی حد تک رہنا بہتر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال موجود تھے۔
- راوی نے ان بالوں کو سرخ سرخ دیکھا۔
- روایت میں نظر یا بیماری کے وقت پانی کا برتن بھیجنے کا واقعہ بیان ہوا ہے۔
