صحیح بخاری حدیث ۵۹۰۸ - نبی صلى الله عليه وسلم کے بھرے قدم اور خوبصورت چہرہ
نبی صلى الله عليه وسلم کے بھرے ہوئے قدم اور حسین چہرے کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۹۰۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹۰۸
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَوْ عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَخْمَ الْقَدَمَيْنِ حَسَنَ الْوَجْهِ لَمْ أَرَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ " .
´ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ بن ہانی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے یا ایک آدمی نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھرے ہوئے قدموں والے تھے، نہایت ہی حسین و جمیل، آپ جیسا خوبصورت میں نے آپ کے بعد کسی کو نہیں دیکھا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۹۰۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے حلیہ مبارک کا مختصر مگر بہت خوبصورت بیان ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم بھرے ہوئے قدموں والے تھے اور نہایت حسین و جمیل تھے۔ پھر یہ بھی کہا گیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم جیسا خوبصورت آپ صلى الله عليه وسلم کے بعد کسی کو نہیں دیکھا۔ حدیث میں صرف دو بنیادی اوصاف سامنے آتے ہیں: قدموں کا بھرپور ہونا اور چہرے کا حسین ہونا۔ اس لیے اس روایت کی وضاحت کرتے ہوئے ہمیں انہی الفاظ تک رہنا چاہیے۔ حلیہ نبوی، رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا چہرہ، نبی صلى الله عليه وسلم کے قدم مبارک، اور شمائل مصطفیٰ جیسے سرچ الفاظ اس حدیث کے موضوع سے قریب ہیں۔ یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلى الله عليه وسلم کو صرف دینی رہنما کے طور پر نہیں بلکہ محبت کے ساتھ ایک زندہ یاد کے طور پر بھی بیان کرتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم کے قدموں کو بھرے ہوئے بتایا گیا ہے۔
- آپ صلى الله عليه وسلم کا چہرہ حسین و جمیل تھا۔
- راوی نے آپ صلى الله عليه وسلم کے بعد آپ جیسا کوئی نہیں دیکھا۔
- حلیہ نبوی بیان کرتے ہوئے حدیث کے الفاظ کی حد میں رہنا چاہیے۔
