صحیح بخاری حدیث ۶۱۲۷ - نماز، ضرورت اور دین میں آسانی
دین میں آسانی: ضرورت کے وقت مناسب راستہ اختیار کرنا
صحیح بخاری : ۶۱۲۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۲۷
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : " كُنَّا عَلَى شَاطِئِ نَهَرٍ بِالْأَهْوَازِ قَدْ نَضَبَ عَنْهُ الْمَاءُ ، فَجَاءَ أَبُو بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ عَلَى فَرَسٍ فَصَلَّى وَخَلَّى فَرَسَهُ ، فَانْطَلَقَتِ الْفَرَسُ فَتَرَكَ صَلَاتَهُ وَتَبِعَهَا حَتَّى أَدْرَكَهَا فَأَخَذَهَا ، ثُمَّ جَاءَ فَقَضَى صَلَاتَهُ ، وَفِينَا رَجُلٌ لَهُ رَأْيٌ ، فَأَقْبَلَ يَقُولُ : انْظُرُوا إِلَى هَذَا الشَّيْخِ تَرَكَ صَلَاتَهُ مِنْ أَجْلِ فَرَسٍ ، فَأَقْبَلَ فَقَالَ : مَا عَنَّفَنِي أَحَدٌ مُنْذُ فَارَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : إِنَّ مَنْزِلِي مُتَرَاخٍ فَلَوْ صَلَّيْتُ وَتَرَكْتُهُ لَمْ آتِ أَهْلِي إِلَى اللَّيْلِ ، وَذَكَرَ أَنَّهُ قَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى مِنْ تَيْسِيرِهِ " .
ازرق بن قیس روایت:
اہواز نامی ایرانی شہر میں ہم ایک نہر کے کنارے تھے جو خشک پڑی تھی، پھر ابوبرزہ اسلمی صحابی گھوڑے پر تشریف لائے اور نماز پڑھی اور گھوڑا چھوڑ دیا۔ گھوڑا بھاگنے لگا تو آپ نے نماز توڑ دی اور اس کا پیچھا کیا، آخر اس کے قریب پہنچے اور اسے پکڑ لیا۔ پھر واپس آ کر نماز قضاء کی، وہاں ایک شخص خارجی تھا، وہ کہنے لگا کہ اس بوڑھے کو دیکھو اس نے گھوڑے کے لیے نماز توڑ ڈالی۔ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہو کر آئے اور کہا جب سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہوا ہوں، کسی نے مجھ کو ملامت نہیں کی اور انہوں نے کہا کہ میرا گھر یہاں سے دور ہے، اگر میں نماز پڑھتا رہتا اور گھوڑے کو بھاگنے دیتا تو اپنے گھر رات تک بھی نہ پہنچ پاتا اور انہوں نے بیان کیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے ہیں اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آسان صورتوں کو اختیار کرتے دیکھا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۱۲۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔ وہ نماز پڑھ رہے تھے، گھوڑا بھاگنے لگا، تو انہوں نے نماز چھوڑ کر گھوڑا پکڑا اور پھر واپس آ کر نماز ادا کی۔ ایک شخص نے اس پر اعتراض کیا، مگر ابو برزہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ان کا گھر دور تھا؛ اگر گھوڑا چلا جاتا تو وہ رات تک گھر نہ پہنچ پاتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی صحبت میں رہے ہیں اور آپ صلى الله عليه وسلم کو آسان صورتیں اختیار کرتے دیکھا ہے۔ یہاں اصل بات نماز کو ہلکا سمجھنا نہیں، بلکہ ایک حقیقی ضرورت کے وقت دین میں آسانی کو سمجھنا ہے۔ یہ روایت بتاتی ہے کہ سخت مزاجی ہر موقع پر درست فہم نہیں ہوتی، خاص طور پر جب سامنے عذر اور ضرورت موجود ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ضرورت کے وقت جائز آسانی کو سمجھنا دین کے فہم کا حصہ ہے۔
- کسی کے عمل پر اعتراض سے پہلے اس کی حالت اور عذر دیکھنا چاہیے۔
- صحابہ کرام نبی صلى الله عليه وسلم کی آسانی کو اپنے عمل میں سامنے رکھتے تھے۔
- عبادت کے ساتھ عملی ضرورت کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا۔
