صحیح بخاری حدیث ۶۱۳۲ - دل جوئی اور اچھا برتاؤ

دل جوئی کی حدیث: لوگوں کے مزاج کا خیال رکھنا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۳۲

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ أَقْبِيَةٌ مِنْ دِيبَاجٍ مُزَرَّرَةٌ بِالذَّهَبِ ، فَقَسَمَهَا فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَعَزَلَ مِنْهَا وَاحِدًا لِمَخْرَمَةَ ، فَلَمَّا جَاءَ قَالَ : قَدْ خَبَأْتُ هَذَا لَكَ " قَالَ أَيُّوبُ : بِثَوْبِهِ وَأَنَّهُ يُرِيهِ إِيَّاهُ وَكَانَ فِي خُلُقِهِ شَيْءٌ ، رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَقَالَ حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ ، قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةٌ .

عبداللہ بن ابی ملیکہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہدیہ میں دیبا کی چند قبائیں آئیں، ان میں سونے کے بٹن لگے ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قبائیں اپنے صحابہ میں تقسیم کر دیں اور مخرمہ کے لیے باقی رکھی، جب مخرمہ آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ میں نے تمہارے لیے چھپا رکھی تھی۔ ایوب نے کہا یعنی اپنے کپڑے میں چھپا رکھی تھی آپ مخرمہ کو خوش کرنے کے لیے اس کے تکمے یا گھنڈی کو دکھلا رہے تھے کیونکہ وہ ذرا سخت مزاج آدمی تھے۔اس حدیث کو حماد بن زید نے بھی ایوب کے واسطہ سے روایت کیا مرسلات میں اور حاتم بن وردان نے کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے ابی ملیکہ نے اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چند قبائیں تحفہ میں آئیں پھر ایسی ہی حدیث بیان کی۔

صحیح بخاری حدیث ۶۱۳۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں بیان ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس دیبا کی قبائیں آئیں جن میں سونے کے بٹن لگے تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے وہ قبائیں صحابہ میں تقسیم فرمائیں اور مخرمہ کے لیے ایک قبا الگ رکھ دی۔ جب مخرمہ آئے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ یہ میں نے تمہارے لیے چھپا رکھی تھی۔ روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم انہیں خوش کرنے کے لیے قبا کا بٹن یا گھنڈی دکھا رہے تھے، کیونکہ ان کے مزاج میں کچھ سختی تھی۔ اس حدیث کا اصل سبق دل جوئی ہے۔ کبھی کسی کے مزاج کو سمجھ کر اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا تعلق کو نرم بنا دیتا ہے۔ یہاں تحفہ، خوش دلی اور انسان کی طبیعت کا لحاظ صاف نظر آتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • لوگوں کے مزاج کا خیال رکھنا اچھے اخلاق میں شامل ہے۔
  • تحفہ دیتے وقت خوش دلی اور دل جوئی تعلق بہتر کرتی ہے۔
  • سخت مزاج شخص کے ساتھ بھی نرمی کی جا سکتی ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم لوگوں کو خوش کرنے کے لیے مناسب انداز اختیار فرماتے تھے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں