صحیح بخاری حدیث ۶۱۶ - بارش میں الصلاة في الرحال
بارش میں گھر پر نماز: الصلاة في الرحال کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۱۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۶
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَعَبْدِ الْحَمِيدِ صَاحِبِ الزِّيَادِيِّ ، وَعَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : " خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ فِي يَوْمٍ رَدْغٍ ، فَلَمَّا بَلَغَ الْمُؤَذِّنُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ الصَّلَاةُ فِي الرِّحَالِ ، فَنَظَرَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، فَقَالَ : فَعَلَ هَذَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ وَإِنَّهَا عَزْمَةٌ " .
عبداللہ بن حارث بصریٰ روایت:
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک دن ہم کو جمعہ کا خطبہ دیا۔ بارش کی وجہ سے اس دن اچھی خاصی کیچڑ ہو رہی تھی۔ مؤذن جب «حى على الصلاة» پر پہنچا تو آپ نے اس سے «الصلاة في الرحال» کہنے کے لیے فرمایا کہ لوگ نماز اپنی قیام گاہوں پر پڑھ لیں۔ اس پر لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اسی طرح مجھ سے جو افضل تھے، انہوں نے بھی کیا تھا اور اس میں شک نہیں کہ جمعہ واجب ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۱۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں بارش اور کیچڑ کے دن نماز کے اعلان کا خاص طریقہ بیان ہوا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جمعہ کا خطبہ دیا، اس دن کیچڑ بہت تھا۔ جب مؤذن «حى على الصلاة» پر پہنچا تو انہوں نے اسے «الصلاة في الرحال» کہنے کا حکم دیا، یعنی لوگ اپنی قیام گاہوں پر نماز پڑھ لیں۔ لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ کام ان سے بہتر شخصیت نے بھی کیا تھا، اور جمعہ واجب ہے۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بارش اور مشقت کے وقت لوگوں کی آسانی کا خیال رکھا گیا۔ متن میں جمعہ کے واجب ہونے کا ذکر بھی موجود ہے، اس لیے دونوں باتیں ساتھ سمجھنی چاہییں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شدید بارش اور کیچڑ میں لوگوں کی آسانی کا خیال رکھا جا سکتا ہے۔
- الصلاة في الرحال کا اعلان خاص عذر کے موقع پر کیا گیا۔
- جمعہ کی فرضیت کا ذکر اس روایت میں برقرار رکھا گیا ہے۔
