صحیح بخاری حدیث ۶۱۶۳ - ظاہری عبادت اور دین سے نکلنا
خوارج کی نشانی اور ظاہری عبادت کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۱۶۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۶۳
حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَالضَّحَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ ذَاتَ يَوْمٍ قِسْمًا ، فَقَالَ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ اعْدِلْ ، قَالَ : وَيْلَكَ مَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ ، فَقَالَ عُمَرُ : ائْذَنْ لِي فَلْأَضْرِبْ عُنُقَهُ ، قَالَ : لَا ، إِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمُرُوقِ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، يُنْظَرُ إِلَى نَصْلِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى رِصَافِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى نَضِيِّهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى قُذَذِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ ، قَدْ سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ ، يَخْرُجُونَ عَلَى حِينِ فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ ، آيَتُهُمْ رَجُلٌ إِحْدَى يَدَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ أَوْ مِثْلُ الْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ , قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : أَشْهَدُ لَسَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَشْهَدُ أَنِّي كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ حِينَ قَاتَلَهُمْ ، فَالْتُمِسَ فِي الْقَتْلَى فَأُتِيَ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ابو سعید خدری روایت:
ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم کر رہے تھے۔ بنی تمیم کے ایک شخص ذوالخویصرۃ نے کہا: یا رسول اللہ! انصاف سے کام لیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، افسوس! اگر میں ہی انصاف نہیں کروں گا تو پھر کون کرے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں تو میں اس کی گردن مار دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ اس کے کچھ (قبیلہ والے) ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ تم ان کی نماز کے مقابلہ میں اپنی نماز کو معمولی سمجھو گے اور ان کے روزوں کے مقابلہ میں اپنے روزے کو معمولی سمجھو گے لیکن وہ دین سے اس طرح نکل چکے ہوں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔تیر کے پھل میں دیکھا جائے تو اس پر بھی کوئی نشان نہیں ملے گا۔ اس کی لکڑی پر دیکھا جائے تو اس پر بھی کوئی نشان نہیں ملے گا۔ پھر اس کے دندانوں میں دیکھا جائے اور اس میں بھی کچھ نہیں ملے گا پھر اس کے پر میں دیکھا جائے تو اس میں بھی کچھ نہیں ملے گا۔ (یعنی شکار کے جسم کو پار کرنے کا کوئی نشان) تیر لید اور خون کو پار کر کے نکل چکا ہو گا۔ یہ لوگ اس وقت پیدا ہوں گے جب لوگوں میں پھوٹ پڑ جائے گی۔ (ایک خلیفہ پر متفق نہ ہوں گے) ان کی نشانی ان کا ایک مرد (سردار لشکر) ہو گا۔ جس کا ایک ہاتھ عورت کے پستان کی طرح ہو گا یا (فرمایا) گوشت کے لوتھڑے کی طرح تھل تھل ہل رہا ہو گا۔ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ جب انہوں نے ان خارجیوں سے (نہروان میں) جنگ کی تھی۔ مقتولین میں تلاش کی گئی تو ایک شخص انہیں صفات کا لایا گیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی تھیں۔ اس کا ایک ہاتھ پستان کی طرح کا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۱۶۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع عدل پر اعتراض، ظاہری عبادت، اور خوارج کی نشانی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تقسیم فرما رہے تھے کہ ذوالخویصرہ نے کہا: انصاف کیجیے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر میں انصاف نہیں کروں گا تو کون کرے گا؟ عمر رضی اللہ عنہ نے سخت کارروائی کی اجازت چاہی، مگر آپ نے منع فرمایا۔ پھر آپ نے ایک ایسے گروہ کی خبر دی جن کی نماز اور روزہ دیکھ کر صحابہ اپنی عبادت کو کم سمجھیں گے، مگر وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ حدیث میں ان کے نکلنے کا وقت اور ایک شخص کی جسمانی نشانی بھی بیان ہوئی۔ خوارج کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ صرف ظاہری عبادت کافی نہیں؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عدل پر بدگمانی خطرناک ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عدل پر اعتراض سخت گمراہی کی علامت ہے۔
- ظاہری عبادت کے ساتھ صحیح دینی سمجھ بھی ضروری ہے۔
- جلد بازی میں کسی کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
