صحیح بخاری حدیث ۶۱۶۵ - نیکی جہاں بھی ہو ضائع نہیں ہوتی
ہجرت، زکوٰۃ اور عمل کے ثواب کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۱۶۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۶۵
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ : " وَيْحَكَ إِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ شَدِيدٌ ، فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَهَلْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ ، فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا " .
ابو سعید خدری روایت:
ایک دیہاتی نے کہا: یا رسول اللہ! ہجرت کے بارے میں مجھے کچھ بتائیے (اس کی نیت ہجرت کی تھی)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تجھ پر افسوس! ہجرت کو تو نے کیا سمجھا ہے یہ بہت مشکل ہے۔ تمہارے پاس کچھ اونٹ ہیں۔ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تم ان کی زکوٰۃ ادا کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں، فرمایا کہ پھر سات سمندر پار عمل کرتے رہو۔ اللہ تمہارے کسی عمل کے ثواب کو ضائع نہ کرے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۱۶۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع ہجرت، زکوٰۃ اور عمل کا اجر ہے۔ ایک دیہاتی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا کہ ہجرت کا معاملہ سخت ہے۔ پھر پوچھا کہ کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ نے پوچھا: کیا ان کی زکوٰۃ ادا کرتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ سمندروں کے پار بھی عمل کرتے رہو، اللہ تمہارے کسی عمل کے ثواب کو ضائع نہیں کرے گا۔ اس حدیث میں خاص بات یہ ہے کہ آدمی جہاں ہو، وہاں اپنے واجب عمل کو درست کرے۔ ہجرت کی حدیث کا پیغام یہ نہیں کہ ہر شخص پر ایک ہی راستہ لازم ہے، بلکہ یہ کہ ذمہ داری سمجھ کر عمل کرو؛ اللہ نیک عمل کو ضائع نہیں کرتا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہجرت کا معاملہ آسان دعویٰ نہیں، اس میں سختی ہے۔
- مال ہو تو اس کی زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ذمہ داری ہے۔
- دور رہ کر بھی نیک عمل کیا جائے تو اللہ اس کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
