صحیح بخاری حدیث ۶۱۶۷ - قیامت کی تیاری اور محبت
قیامت کی تیاری: تم کس سے محبت رکھتے ہو؟
صحیح بخاری : ۶۱۶۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۶۷
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى السَّاعَةُ قَائِمَةٌ ؟ قَالَ : " وَيْلَكَ ، وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ قَالَ : مَا أَعْدَدْتُ لَهَا إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قَالَ : إِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " فَقُلْنَا : وَنَحْنُ كَذَلِكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَفَرِحْنَا يَوْمَئِذٍ فَرَحًا شَدِيدًا ، فَمَرَّ غُلَامٌ لِلْمُغِيرَةِ وَكَانَ مِنْ أَقْرَانِي ، فَقَالَ : إِنْ أُخِّرَ هَذَا فَلَنْ يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " ، وَاخْتَصَرَهُ شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعْتُ أَنَسًا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
انس روایت:
ایک بدوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، افسوس «ويلك» تم نے اس قیامت کے لیے کیا تیاری کر لی ہے؟ انہوں نے عرض کیا میں نے اس کے لیے تو کوئی تیاری نہیں کی ہے البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم قیامت کے دن ان کے ساتھ ہو، جس سے تم محبت رکھتے ہو۔ ہم نے عرض کیا اور ہمارے ساتھ بھی یہی معاملہ ہو گا؟ فرمایا کہ ہاں۔ہم اس دن بہت زیادہ خوش ہوئے، پھر مغیرہ کے ایک غلام وہاں سے گزرے وہ میرے ہم عمر تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ بچہ زندہ رہا تو اس کے بڑھاپا آنے سے پہلے قیامت قائم ہو جائے گی۔
صحیح بخاری حدیث ۶۱۶۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع قیامت کی تیاری اور اللہ و رسول سے محبت ہے۔ ایک بدوی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی۔ جواب میں آپ نے وقت بتانے کے بجائے پوچھا کہ تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے۔ اس نے کہا کہ میرے پاس خاص تیاری نہیں، مگر میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس کے ساتھ ہو جس سے محبت رکھتے ہو۔ صحابہ نے اپنے لیے بھی پوچھا تو آپ نے ہاں فرمایا، اس لیے وہ بہت خوش ہوئے۔ یہ حدیث قیامت کی تیاری، محبت کی حدیث، اور اللہ رسول کی محبت کے موضوع پر صاف رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت کا وقت جاننے سے زیادہ اہم اس کی تیاری ہے۔
- اللہ اور اس کے رسول سے محبت ایک بڑی دینی قدر ہے۔
- انسان کو دیکھنا چاہیے کہ اس کی محبت کس طرف ہے۔
- صحابہ نے اس بشارت کو سن کر خوشی محسوس کی۔
