صحیح بخاری حدیث ۶۱۷۰ - محبت اور رفاقت
محبت اور رفاقت: آدمی اپنے محبوب کے ساتھ ہو گا
صحیح بخاری : ۶۱۷۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۷۰
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ قَالَ : " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " ، تَابَعَهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ .
ابوموسیٰ اشعری روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا ایک شخص ایک جماعت سے محبت رکھتا ہے لیکن اس سے مل نہیں سکا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان اس کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔سفیان کے ساتھ اس روایت کی متابعت ابومعاویہ اور محمد بن عبید نے کی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۱۷۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ایک آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے، مگر ابھی ان سے نہیں ملا یا ان تک نہیں پہنچا۔ آپ نے جواب دیا کہ انسان اس کے ساتھ ہے جس سے محبت رکھتا ہے۔ یہاں محبت کو صرف جذباتی بات کے طور پر نہیں بلکہ نسبت اور رفاقت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس لیے یہ حدیث محبت کی حدیث، صالحین کی محبت، اور اچھی نسبت کے موضوع پر بہت زیادہ تلاش کی جاتی ہے۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں، اس لیے اس سے اتنا ہی سمجھنا چاہیے کہ دل کا سچا لگاؤ انسان کے لیے اہم ہے۔ آدمی کو اپنی محبتیں سنبھال کر رکھنی چاہییں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جس سے محبت کی جائے، اس کی نسبت اہم ہو جاتی ہے۔
- اچھے لوگوں سے محبت ایک اچھی دینی خواہش ہے۔
- دل کی محبت کو معمولی نہ سمجھا جائے۔
- حدیث میں محبت اور رفاقت کا سیدھا اصول بتایا گیا ہے۔
