صحیح بخاری حدیث ۶۱۸ - فجر سے پہلے دو ہلکی رکعتیں

فجر کی سنتیں: اذان اور اقامت کے درمیان دو ہلکی رکعتیں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۸

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اعْتَكَفَ الْمُؤَذِّنُ لِلصُّبْحِ وَبَدَا الصُّبْحُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تُقَامَ الصَّلَاةُ " .

حفصہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب مؤذن صبح کی اذان صبح صادق کے طلوع ہونے کے بعد دے چکا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اذان اور تکبیر کے بیچ نماز قائم ہونے سے پہلے دو ہلکی سی رکعتیں پڑھتے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۱۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں فجر کی دو ہلکی رکعتوں کا ذکر ہے۔ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا معمول تھا کہ جب مؤذن صبح کی اذان صبح صادق کے طلوع ہونے کے بعد دے چکا ہوتا، تو آپ صلى الله عليه وسلم اقامت سے پہلے دو ہلکی رکعتیں پڑھتے۔ یہ روایت فجر کی سنتوں کے وقت کو واضح کرتی ہے: صبح صادق ظاہر ہونے کے بعد اذان ہو، پھر اقامت سے پہلے دو ہلکی رکعتیں۔ حدیث میں انہیں ہلکا پڑھنے کا ذکر آیا ہے، اس لیے فجر کی سنتیں لمبی کرنے کے بجائے مختصر اور آرام سے پڑھنے کا پہلو سمجھ آتا ہے۔ اس متن سے صرف یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم یہ دو رکعتیں اذان اور اقامت کے درمیان پڑھتے تھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فجر کی دو رکعتیں صبح صادق کے بعد اذان اور اقامت کے درمیان پڑھی گئیں۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم ان رکعتوں کو ہلکا پڑھتے تھے۔
  • نماز کے اوقات میں ترتیب کا خیال رکھنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں