صحیح بخاری حدیث ۶۲۲۵ - الحمدللہ کے بعد چھینک کا جواب

الحمدللہ کہنے پر چھینک کا جواب: یرحمک اللہ کی شرط

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۲۲۵

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ : " عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، شَمَّتَّ هَذَا وَلَمْ تُشَمِّتْنِي ، قَالَ : إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ وَلَمْ تَحْمَدِ اللَّهَ " .

انس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دو آدمیوں نے چھینکا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک کی چھینک پر یرحمک اللہ کہا اور دوسرے کی چھینک پر نہیں کہا۔ اس پر دوسرا شخص بولا کہ یا رسول اللہ! آپ نے ان کی چھینک پر یرحمک اللہ فرمایا۔ لیکن میری چھینک پر نہیں فرمایا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے الحمدللہ کہا تھا اور تم نے نہیں کہا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۶۲۲۵ کا خلاصہ

اس روایت میں انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دو آدمیوں نے چھینکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کی چھینک پر یرحمک اللہ فرمایا اور دوسرے کی چھینک پر نہیں فرمایا۔ دوسرے شخص نے پوچھا کہ آپ نے اس کی چھینک پر یرحمک اللہ کہا، میری پر کیوں نہیں کہا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے الحمدللہ کہا تھا اور تم نے نہیں کہا تھا۔ اس حدیث سے چھینک کے آداب نہایت واضح ہو جاتے ہیں۔ یرحمک اللہ کا جواب اس وقت ہے جب چھینکنے والا پہلے اللہ کی حمد کرے۔ اس میں ادب بھی ہے، ذکر بھی ہے اور سیکھنے کا سادہ طریقہ بھی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • چھینک کے بعد الحمدللہ نہ کہا جائے تو یرحمک اللہ کا جواب نہیں دیا گیا۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے سوال پر وجہ واضح فرما دی۔
  • چھینک کے آداب میں پہلے اللہ کی حمد کرنا شامل ہے۔
  • دینی ادب سکھانے میں سادہ مثالیں بہت مؤثر ہوتی ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں