صحیح بخاری حدیث ۶۲۸۶ - حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا، راز داری اور صبر

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت اور صبر کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۲۸۶

حَدَّثَنَا مُوسَى ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا فِرَاسٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِيِنَ ، قَالَتْ : إِنَّا كُنَّا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ جَمِيعًا لَمْ تُغَادَرْ مِنَّا وَاحِدَةٌ ، فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام تَمْشِي لَا وَاللَّهِ مَا تَخْفَى مِشْيَتُهَا مِنْ مِشْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَآهَا رَحَّبَ ، قَالَ : مَرْحَبًا بِابْنَتِي ، ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ ، ثُمَّ سَارَّهَا فَبَكَتْ بُكَاءً شَدِيدًا ، فَلَمَّا رَأَى حُزْنَهَا سَارَّهَا الثَّانِيَةَ ، فَإِذَا هِيَ تَضْحَكُ ، فَقُلْتُ لَهَا : أَنَا مِنْ بَيْنِ نِسَائِهِ خَصَّكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسِّرِّ مِنْ بَيْنِنَا ، ثُمَّ أَنْتِ تَبْكِينَ ، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا عَمَّا سَارَّكِ ، قَالَتْ : مَا كُنْتُ لِأُفْشِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ قُلْتُ لَهَا : عَزَمْتُ عَلَيْكِ بِمَا لِي عَلَيْكِ مِنَ الْحَقِّ ، لَمَّا أَخْبَرْتِنِي . قَالَتْ : أَمَّا الْآنَ فَنَعَمْ ، فَأَخْبَرَتْنِي ، قَالَتْ : أَمَّا حِينَ سَارَّنِي فِي الْأَمْرِ الْأَوَّلِ ، " فَإِنَّهُ أَخْبَرَنِي أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ بِالْقُرْآنِ كُلَّ سَنَةٍ مَرَّةً ، وَإِنَّهُ قَدْ عَارَضَنِي بِهِ الْعَامَ مَرَّتَيْنِ ، وَلَا أَرَى الْأَجَلَ إِلَّا قَدِ اقْتَرَبَ ، فَاتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي ، فَإِنِّي نِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ ، قَالَتْ : فَبَكَيْتُ بُكَائِي الَّذِي رَأَيْتِ ، فَلَمَّا رَأَى جَزَعِي سَارَّنِي الثَّانِيَةَ ، قَالَ : يَا فَاطِمَةُ ، أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ ، أَوْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ " .

عائشہ روایت:

یہ تمام ازواج مطہرات (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں، کوئی وہاں سے نہیں ہٹا تھا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا چلتی ہوئی آئیں۔ اللہ کی قسم! ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال سے الگ نہیں تھی (بلکہ بہت ہی مشابہ تھی) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو خوش آمدید کہا۔ فرمایا بیٹی! مرحبا! پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دائیں طرف یا بائیں طرف انہیں بٹھایا۔ اس کے بعد آہستہ سے ان سے کچھ کہا اور فاطمہ رضی اللہ عنہا بہت زیادہ رونے لگیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا غم دیکھا تو دوبارہ ان سے سرگوشی کی اس پر وہ ہنسنے لگیں۔تمام ازواج میں سے میں نے ان سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں صرف آپ کو سرگوشی کی خصوصیت بخشی۔ پھر آپ رونے لگیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے کان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا انہوں نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا راز نہیں کھول سکتی۔ پھر جب آپ کی وفات ہو گئی تو میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میرا جو حق آپ پر ہے اس کا واسطہ دیتی ہوں کہ آپ مجھے وہ بات بتا دیں۔انہوں نے کہا کہ اب بتا سکتی ہوں چنانچہ انہوں نے مجھے بتایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پہلی سرگوشی کی تھی تو فرمایا تھا کہ ”جبرائیل علیہ السلام ہر سال مجھ سے سال میں ایک مرتبہ دور کیا کرتے تھے لیکن اس سال مجھ سے انہوں نے دو مرتبہ دور کیا اور میرا خیال ہے کہ میری وفات کا وقت قریب ہے، اللہ سے ڈرتی رہنا اور صبر کرنا کیونکہ میں تمہارے لیے ایک اچھا آگے جانے والا ہوں“ بیان کیا کہ اس وقت میرا رونا جو آپ نے دیکھا تھا اس کی وجہ یہی تھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پریشانی دیکھی تو آپ نے دوبارہ مجھ سے سرگوشی کی، فرمایا ”فاطمہ بیٹی! کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جنت میں تم مومنوں کی عورتوں کی سردار ہو گی، یا (فرمایا کہ) اس امت کی عورتوں کی سردار ہو گی۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۲۸۶ کا خلاصہ

یہ حدیث حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت، راز داری اور صبر کا اہم سبق دیتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پاس بٹھایا، آہستہ سے بات فرمائی تو وہ رونے لگیں، پھر دوبارہ سرگوشی کی تو وہ ہنس پڑیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بعد میں وجہ پوچھی، مگر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا راز آپ کی وفات تک ظاہر نہ کیا۔ اس سے راز کی حفاظت کا ادب معلوم ہوتا ہے۔ پہلی بات میں وفات کے قریب ہونے کا اشارہ تھا، ساتھ اللہ سے ڈرنے اور صبر کرنے کی نصیحت تھی۔ دوسری بات میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو مومن عورتوں یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہونے کی خوش خبری دی گئی۔ یہی اس حدیث کا مرکزی پیغام ہے: صبر، امانت اور اہل بیت کی فضیلت۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • راز کی بات کو امانت سمجھ کر محفوظ رکھنا چاہیے۔
  • مشکل خبر سن کر اللہ سے ڈرنا اور صبر کرنا مومن کا طریقہ ہے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی کے غم کا خیال رکھتے تھے۔
  • حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت اس حدیث میں واضح بیان ہوئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں