صحیح بخاری حدیث ۶۳۷۳ - وصیت، نیت اور خرچ

وصیت، وارثوں کا حق اور اللہ کی رضا کے لیے خرچ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۷۳

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ أَبَاهُ ، قَالَ : عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ شَكْوَى أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَلَغَ بِي مَا تَرَى مِنَ الْوَجَعِ وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلَا يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ لِي وَاحِدَةٌ ، أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي ، قَالَ : " لَا " ، قُلْتُ : فَبِشَطْرِهِ ، قَالَ : " الثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ ، وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ ، إِلَّا أُجِرْتَ حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فِي امْرَأَتِكَ " ، قُلْتُ : أَأُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي ، قَالَ : " إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ ، فَتَعْمَلَ عَمَلًا تَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ ، إِلَّا ازْدَدْتَ دَرَجَةً وَرِفْعَةً وَلَعَلَّكَ تُخَلَّفُ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ ، وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ ، اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ " ، لَكِنْ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ ، قَالَ : سَعْدٌ رَثَى لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَنْ تُوُفِّيَ بِمَكَّةَ .

´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے، کہا ہم کو ابن شہاب نے خبر دی، انہیں عامر بن سعد نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔ میری اس بیماری نے مجھے موت سے قریب کر دیا تھا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ خود مشاہدہ فرما رہے ہیں کہ بیماری نے مجھے کہاں پہنچا دیا ہے اور میرے پاس مال و دولت ہے اور سوا ایک لڑکی کے اس کا اور کوئی وارث نہیں، کیا میں اپنی دولت کا دو تہائی صدقہ کر دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے عرض کیا پھر آدھی کا کر دوں؟ فرمایا کہ ایک تہائی بہت ہے اگر تم اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑو اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور یقین رکھو کہ تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے اور اس سے مقصود اللہ کی خوشنودی ہوئی تمہیں تو اس پر ثواب ملے گا، یہاں تک کہ اگر تم اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ رکھو (تو اس پر بھی ثواب ملے گا) میں نے عرض کیا میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے چھوڑ دیا جاؤں گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم پیچھے چھوڑ دئیے جاؤ اور پھر کوئی عمل کرو جس سے مقصود اللہ کی رضا ہو تو تمہارا مرتبہ بلند ہو گا اور امید ہے کہ تم ابھی زندہ رہو گے اور کچھ قومیں تم سے فائدہ اٹھائیں گی اور کچھ نقصان اٹھائیں گی۔ اے اللہ! میرے صحابہ کی ہجرت کو کامیاب فرما اور انہیں الٹے پاؤں واپس نہ کر، البتہ افسوس سعد بن خولہ کا ہے۔ سعد نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر افسوس کا اظہار اس وجہ سے کیا تھا کہ ان کا انتقال مکہ معظمہ میں ہو گیا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۶۳۷۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی بیماری کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا وہ اپنے مال کا دو تہائی صدقہ کر دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔ پھر انہوں نے آدھا پوچھا تو آپ نے منع فرمایا۔ پھر ایک تہائی کی بات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک تہائی بھی بہت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑنا اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑا جائے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ اسی حدیث میں یہ اہم بات بھی آئی کہ جو خرچ اللہ کی خوشنودی کے لیے ہو، اس پر اجر ملتا ہے، یہاں تک کہ بیوی کے منہ میں لقمہ رکھنے پر بھی۔ اس حدیث کا موضوع وصیت، نیت، اہل خانہ کا حق، اور اللہ کے لیے خرچ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • وصیت اور صدقہ میں وارثوں کے حق کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • ایک تہائی مال کی وصیت بھی حدیث کے الفاظ کے مطابق بہت قرار دی گئی۔
  • اللہ کی رضا کے لیے کیا گیا خرچ اجر کا سبب بنتا ہے۔
  • گھر والوں پر خرچ بھی نیت درست ہو تو نیکی میں شامل ہو سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں