صحیح بخاری حدیث ۶۴۰۲ - آمین کہنے کی فضیلت

آمین کہنے کی حدیث: فرشتوں کی آمین سے موافقت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۰۲

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : حَدَّثَنَاهُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب پڑھنے والا آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ اس وقت ملائکہ بھی آمین کہتے ہیں اور جس کی آمین ملائکہ کی آمین کے ساتھ ہوتی ہے اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۴۰۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب پڑھنے والا آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ اسی وقت فرشتے بھی آمین کہتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے ساتھ ہو جائے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع نماز میں آمین کہنا اور اس کی فضیلت ہے۔ متن میں قاری کے آمین کہنے کے ساتھ آمین کہنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں دعا کے جواب پر توجہ رکھنی چاہیے۔ آمین صرف ایک لفظ نہیں، بلکہ دعا کی قبولیت کی درخواست ہے۔ حدیث میں اس وقت فرشتوں کی شرکت کا ذکر بھی آیا ہے، اس لیے مسلمان کو غفلت کے بغیر آمین کہنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قاری کے آمین کہنے پر آمین کہنی چاہیے۔
  • فرشتے بھی آمین کہتے ہیں، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔
  • آمین کہتے وقت توجہ اور حضور ہونا چاہیے۔
  • فرشتوں کی آمین سے موافقت پر گناہوں کی معافی کا ذکر ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں