صحیح بخاری حدیث ۶۵۳ - پہلی صف کی فضیلت
اذان اور پہلی صف کا بڑا اجر
صحیح بخاری : ۶۵۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۳
ثُمَّ قَالَ : الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ الْمَطْعُونُ وَالْمَبْطُونُ وَالْغَرِيقُ وَصَاحِبُ الْهَدْمِ وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَقَالَ : لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا لَاسْتَهَمُوا عَلَيْهِ .
´پھر آپ نے فرمایا کہ` شہداء پانچ قسم کے ہوتے ہیں۔ طاعون میں مرنے والے، پیٹ کے عارضے (ہیضے وغیرہ) میں مرنے والے اور ڈوب کر مرنے والے اور جو دیوار وغیرہ کسی بھی چیز سے دب کر مر جائے اور اللہ کے راستے میں (جہاد کرتے ہوئے) شہید ہونے والے اور آپ نے فرمایا کہ اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اذان دینے اور پہلی صف میں شریک ہونے کا ثواب کتنا ہے اور پھر اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہو کہ قرعہ ڈالا جائے تو لوگ ان کے لیے قرعہ ہی ڈالا کریں۔
صحیح بخاری حدیث ۶۵۳ کا خلاصہ
حدیث میں پانچ قسم کے شہداء کا ذکر ہے۔ ساتھ ہی بتایا گیا کہ اگر لوگ اذان اور پہلی صف کے اجر کو جان لیں تو اس کے لیے قرعہ اندازی تک کی نوبت آ جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پہلی صف کی فضیلت بڑی ہے۔
- اذان کا مقام بلند ہے۔
- شہداء کی مختلف اقسام ہیں۔
