صحیح بخاری حدیث ۶۵۴۸ - جنت و جہنم میں موت نہیں
موت ختم ہونے کی حدیث: جنتیوں کی خوشی اور جہنمیوں کا غم
صحیح بخاری : ۶۵۴۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۴۸
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَارَ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَى الْجَنَّةِ ، وَأَهْلُ النَّارِ إِلَى النَّارِ ، جِيءَ بِالْمَوْتِ حَتَّى يُجْعَلَ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، ثُمَّ يُذْبَحُ ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، لَا مَوْتَ ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ ، لَا مَوْتَ ، فَيَزْدَادُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَرَحًا إِلَى فَرَحِهِمْ ، وَيَزْدَادُ أَهْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلَى حُزْنِهِمْ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب اہل جنت جنت میں چلے جائیں گے اور اہل دوزخ دوزخ میں چلے جائیں گے تو موت کو لایا جائے گا اور اسے جنت اور دوزخ کے درمیان رکھ کر ذبح کر دیا جائے گا۔ پھر ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ اے جنت والو! تمہیں اب موت نہیں آئے گی اور اے دوزخ والو! تمہیں بھی اب موت نہیں آئے گی۔ اس بات سے جنتی اور زیادہ خوش ہو جائیں گے اور جہنمی اور زیادہ غمگین ہو جائیں گے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۵۴۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع آخرت کی دائمی زندگی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اہل جنت جنت میں اور اہل دوزخ دوزخ میں چلے جائیں گے تو موت کو جنت اور دوزخ کے درمیان لایا جائے گا اور اسے ذبح کر دیا جائے گا۔ پھر اعلان ہوگا کہ اے جنت والو، اب موت نہیں، اور اے دوزخ والو، اب موت نہیں۔ اس اعلان سے جنت والوں کی خوشی مزید بڑھ جائے گی، کیونکہ نعمت ہمیشہ کے لیے ہوگی۔ دوزخ والوں کا غم بھی بڑھ جائے گا، کیونکہ عذاب سے موت کے ذریعے نکلنے کا راستہ نہیں رہے گا۔ اس حدیث میں آخرت کی سنجیدگی بہت صاف انداز میں آتی ہے: وہاں کا معاملہ عارضی نہیں بلکہ باقی رہنے والا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آخرت کی زندگی عارضی نہیں بلکہ باقی رہنے والی ہے۔
- جنت والوں کے لیے موت کا ختم ہونا خوشی کا سبب ہوگا۔
- دوزخ والوں کے لیے موت کا نہ آنا غم میں اضافے کا سبب ہوگا۔
