صحیح بخاری حدیث ۶۶۵ - بیماری میں سہارا
بیماری میں نبی صلى الله عليه وسلم کا حال
صحیح بخاری : ۶۶۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۵
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ " لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاشْتَدَّ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي ، فَأَذِنَّ لَهُ فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلَاهُ الْأَرْضَ ، وَكَانَ بَيْنَ الْعَبَّاسِ وَرَجُلٍ آخَرَ " ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ ، فَقَالَ لِي : وَهَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ ؟ قُلْتُ : لَا ، قَالَ : هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ " .
عائشہ روایت:
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے اور تکلیف زیادہ بڑھ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے اس کی اجازت لی کہ بیماری کے دن میرے گھر میں گزاریں۔ انہوں نے اس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت دے دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم زمین پر لکیر کر رہے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت عباس رضی اللہ عنہ اور ایک اور شخص کے بیچ میں تھے (یعنی دونوں حضرات کا سہارا لیے ہوئے تھے) عبیداللہ راوی نے بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا کی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کی، تو آپ نے فرمایا اس شخص کو بھی جانتے ہو، جن کا نام عائشہ رضی اللہ عنہا نے نہیں لیا۔ میں نے کہا کہ نہیں! آپ نے فرمایا کہ وہ دوسرے آدمی علی رضی اللہ عنہ تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۵ کا خلاصہ
حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم کی شدید بیماری اور ازواجِ مطہرات کی اجازت سے حضرت عائشہؓ کے گھر قیام کا ذکر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیماری میں آسانی اختیار کی جا سکتی ہے
- اہل خانہ سے مشورہ اہم ہے
- صحابہؓ کی خدمت نمایاں ہے
