صحیح بخاری حدیث ۶۶۵۰ - لات و عزیٰ کی قسم کا کفارہ

لات و عزیٰ کی قسم اور جوا کی دعوت پر نبوی اصلاح

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۵۰

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حَلَفَ ، فَقَالَ فِي حَلِفِهِ : بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى ، فَلْيَقُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ : تَعَالَ أُقَامِرْكَ : فَلْيَتَصَدَّقْ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے قسم کھائی اور کہا کہ ”لات و عزیٰ کی قسم“ تو اسے پھر کلمہ «لا إله إلا الله» کہہ لینا چاہئے اور جو شخص اپنے ساتھی سے کہے کہ آؤ جوا کھیلیں تو اسے چاہئے کہ (اس کے کفارہ میں) صدقہ کرے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۶۵۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں دو غلط باتوں کی اصلاح بتائی گئی ہے۔ پہلی یہ کہ اگر کوئی شخص قسم کھاتے ہوئے لات و عزیٰ کا نام لے لے تو اسے لا الہ الا اللہ کہنا چاہیے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر اللہ کی قسم زبان سے نکل جائے تو فوراً توحید کی طرف لوٹنا چاہیے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر کوئی اپنے ساتھی سے کہے کہ آؤ جوا کھیلیں تو اسے صدقہ کرنا چاہیے۔ حدیث کا انداز اصلاحی ہے: غلط لفظ نکلے تو اسے صحیح کلمے سے درست کرو، اور غلط دعوت دی ہو تو صدقہ کے ذریعے اپنے نفس کو سنبھالو۔ یہاں اصل سبق یہ ہے کہ زبان کو شرک والے الفاظ، جوا کی دعوت اور بے احتیاطی سے بچایا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • غیر اللہ کی قسم زبان سے نکل جائے تو فوراً لا الہ الا اللہ کہنا چاہیے۔
  • جوا کھیلنے کی دعوت بھی غلط بات ہے، اس پر صدقہ کی تعلیم دی گئی ہے۔
  • زبان کی غلطی کو فوراً دینی اصلاح سے درست کرنا چاہیے۔
  • توحید کے الفاظ مسلمان کی زبان پر تازہ رہنے چاہییں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں