صحیح بخاری حدیث ۶۶۶۲ - واقعہ افک میں قسم کا ذکر
واقعہ افک، غیرت اور قسم کے الفاظ کا محتاط ذکر
صحیح بخاری : ۶۶۶۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۶۲
حَدَّثَنَا الْأُوَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ . ح وحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، وَعَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا ، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ ، وَكُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ ، وَفِيهِ : فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَعْذَرَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ ، فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ ، فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ : لَعَمْرُ اللَّهِ لَنَقْتُلَنَّهُ .
زہری روایت:
میں نے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بات کے متعلق سنا کہ جب تہمت لگانے والے نے ان پر تہمت لگائی تھی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بری قرار دیا تھا۔ اور ہر شخص نے مجھ سے پوری بات کا کوئی ایک حصہ ہی بیان کا۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور عبداللہ بن ابی کے بارے میں مدد چاہی۔ پھر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اللہ کی قسم! ( «لعمر الله») ہم ضرور اسے قتل کر دیں گے (مفصل حدیث پیچھے گزر چکی ہے)۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۶۲ کا خلاصہ
اس روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگائی گئی تہمت کے واقعے کا ایک حصہ آیا ہے، اور یہ بھی بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بری قرار دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور عبداللہ بن ابی کے بارے میں مدد چاہی۔ اس کے بعد اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے قسم کے الفاظ کے ساتھ سخت بات کہی۔ اس دیے گئے متن سے اصل بات یہ ہے کہ بڑے اجتماعی فتنوں میں زبان، قسم اور جذبات بہت حساس ہو جاتے ہیں۔ واقعہ افک جیسے معاملے میں اللہ کی طرف سے براءت کا ذکر ہے، اور ساتھ ہی صحابہ کے جذبات کا بھی۔ ہمیں اس سے یہ سمجھنا چاہیے کہ تہمت، عزت اور قسم کے معاملات میں بے حد احتیاط ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تہمت کا معاملہ بہت سنگین ہے۔
- اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بری قرار دیا۔
- فتنوں میں زبان اور قسم کے استعمال میں احتیاط چاہیے۔
- اجتماعی معاملے میں جذبات کو دینی ادب کے تابع رکھنا چاہیے۔
