صحیح بخاری حدیث ۶۶۶۴ - دل کے وسوسوں کی معافی
دل کے وسوسے اور خیال پر معافی کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۶۶۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۶۴
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا زُرَارَةُ بْنُ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا وَسْوَسَتْ ، أَوْ حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا ، مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ ، أَوْ تَكَلَّمْ " .
ابوہریرہ روایت:
اللہ تعالیٰ نے میری امت کی ان غلطیوں کو معاف کیا ہے جن کا صرف دل میں وسوسہ گزرے یا دل میں اس کے کرنے کی خواہش پیدا ہو، مگر اس کے مطابق عمل نہ ہو اور نہ بات کی ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۶۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں امت کے لیے آسانی اور رحمت کا بیان ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے ان وسوسوں یا دل کی باتوں کو معاف فرمایا ہے جن پر انسان نہ عمل کرے اور نہ زبان سے بولے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دل میں اچانک آنے والا خیال، وسوسہ یا اندرونی بات اسی وقت قابل مواخذہ نہیں بنتی جب وہ صرف دل تک رہے۔ البتہ جب انسان اسے عمل میں لے آئے یا زبان سے کہہ دے تو معاملہ بدل جاتا ہے۔ یہ حدیث پریشان دل لوگوں کے لیے تسلی بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ وسوسے پر گھبرانے کے بجائے اسے چھوڑ دینا چاہیے، مگر غلط بات کو عمل یا قول میں نہیں لانا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دل میں آنے والے وسوسے پر پکڑ نہیں جب تک عمل یا قول نہ ہو۔
- انسان کو غلط خیال کو عمل میں بدلنے سے بچنا چاہیے۔
- وسوسے سے پریشان ہونے کے بجائے اسے چھوڑ دینا بہتر ہے۔
- زبان اور عمل انسان کی ذمہ داری کو واضح کرتے ہیں۔
