صحیح بخاری حدیث ۶۶۷ - گھر میں نماز کی جگہ

گھر میں مصلیٰ بنانا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۷

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يَؤُمُّ قَوْمَهُ وَهُوَ أَعْمَى ، وَأَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا تَكُونُ الظُّلْمَةُ وَالسَّيْلُ وَأَنَا رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ ، فَصَلِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلَّى ، فَجَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ ؟ فَأَشَارَ إِلَى مَكَانٍ مِنَ الْبَيْتِ فَصَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

محمود بن ربیع انصاری روایت:

بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ نابینا تھے اور وہ اپنی قوم کے امام تھے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اندھیری اور سیلاب کی راتیں ہوتی ہیں اور میں اندھا ہوں، اس لیے آپ میرے گھر میں کسی جگہ نماز پڑھ لیجیئے تاکہ میں وہیں اپنی نماز کی جگہ بنا لوں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے اور پوچھا کہ تم کہاں نماز پڑھنا پسند کرو گے۔ انہوں نے گھر میں ایک جگہ بتلا دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز پڑھی۔

صحیح بخاری حدیث ۶۶۷ کا خلاصہ

عتبان بن مالکؓ نے اپنی مجبوری بیان کی تو نبی صلى الله عليه وسلم ان کے گھر تشریف لے گئے اور منتخب جگہ پر نماز ادا فرمائی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • معذور افراد کی رعایت
  • گھر میں نماز کی جگہ بنانا درست ہے
  • آسانی پیدا کرنا پسندیدہ ہے

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں