صحیح بخاری حدیث ۶۶۷۴ - قربانی کا درست وقت
قربانی نماز عید کے بعد: جندبؓ کی روایت
صحیح بخاری : ۶۶۷۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۷۴
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُنْدَبًا ، قَالَ : شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمَ عِيدٍ ، ثُمَّ خَطَبَ ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ ذَبَحَ فَلْيُبَدِّلْ مَكَانَهَا ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ ، فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ " .
جندب روایت:
میں اس وقت تک موجود تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا اور فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا ہو اسے چاہئے کہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ابھی ذبح نہ کیا ہو اسے چاہئے کہ اللہ کا نام لے کر جانور ذبح کرے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۷۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع قربانی کا درست وقت ہے۔ جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ موجود تھے جب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے عید کی نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا۔ اس کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا ہو، وہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے۔ اور جس نے ابھی ذبح نہیں کیا، وہ اللہ کا نام لے کر جانور ذبح کرے۔ اس روایت میں دو باتیں صاف ہیں: پہلے نماز عید، پھر قربانی؛ اور ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینا۔ قربانی کی حدیث، نماز سے پہلے ذبح، عید الاضحی قربانی کا وقت، اور باسم اللہ ذبح جیسے الفاظ اس مضمون کے لیے اہم ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قربانی نماز عید کے بعد کرنے کا حکم روایت میں آیا ہے۔
- نماز سے پہلے ذبح کرنے والے کو بدل میں دوسرا جانور ذبح کرنے کا کہا گیا۔
- ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینے کی تعلیم دی گئی۔
- عید کے خطبے میں عملی دینی مسئلہ واضح کیا گیا۔
