صحیح بخاری حدیث ۶۷۱۱ - روزہ توڑنے کا کفارہ
روزہ توڑنے کا کفارہ: غلام، روزے یا مسکینوں کو کھانا
صحیح بخاری : ۶۷۱۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۱۱
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : هَلَكْتُ ، قَالَ : " وَمَا شَأْنُكَ ؟ " ، قَالَ : وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ ، قَالَ : " هَلْ تَجِدُ مَا تُعْتِقُ رَقَبَةً ؟ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ؟ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا ؟ " ، قَالَ : لَا أَجِدُ ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ ، فَقَالَ : " خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ " ، فَقَالَ : أَعَلَى أَفْقَرَ مِنَّا ؟ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَفْقَرُ مِنَّا ، ثُمَّ قَالَ : " خُذْهُ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ " .
ابوہریرہ روایت:
ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں تو تباہ ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے؟ کہا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے جسے آزاد کر سکو؟ انہوں نے کہا نہیں۔ دریافت فرمایا، کیا متواتر دو مہینے تم روزے رکھ سکتے ہو؟ کہا کہ نہیں، دریافت فرمایا کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ عرض کیا کہ اس کے لیے بھی میرے پاس کچھ نہیں ہے۔اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے لے جا اور صدقہ کر۔ انہوں نے پوچھا کہ اپنے سے زیادہ محتاج پر؟ ان دونوں میدان کے درمیان ہم سے زیادہ محتاج کوئی نہیں ہے۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا اسے لے جا اور اپنے گھر والوں کو کھلا دے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۷۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں رمضان کے روزے کا کفارہ صاف ترتیب کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ ایک آدمی نے آ کر اپنی غلطی بتائی کہ اس نے رمضان میں بیوی سے تعلق کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے پوچھا کہ کیا غلام آزاد کر سکتے ہو؟ پھر پوچھا کہ کیا مسلسل دو مہینے روزے رکھ سکتے ہو؟ پھر پوچھا کہ کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ اس نے کہا کہ میرے پاس کچھ نہیں۔ بعد میں کھجوروں کا ٹوکرا آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صدقہ کرنے کو فرمایا۔ جب اس نے بتایا کہ ہم سے زیادہ محتاج کوئی نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔ اس حدیث میں روزہ توڑنے کا کفارہ، رمضان کفارہ، ساٹھ مسکین، اور دو ماہ کے روزے جیسے سرچ الفاظ اہم ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غلطی کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رہنمائی مانگنا اس واقعے میں صاف دکھتا ہے۔
- کفارہ کی ترتیب حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتی ہے۔
- محتاجی کی حالت میں سوال کرنے والے کی حالت کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔
