صحیح بخاری حدیث ۶۷۱۳ - مد نبوی کی پیروی

مد نبوی کی حدیث: فطرانہ اور کفارہ میں اصل معیار

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۱۳

حَدَّثَنَا مُنْذِرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْجَارُودِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ وَهْوَ سَلْمٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : " كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُعْطِي زَكَاةَ رَمَضَانَ ، بِمُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، الْمُدِّ الْأَوَّلِ ، وَفِي كَفَّارَةِ الْيَمِينِ ، بِمُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ أَبُو قُتَيْبَةَ : قَالَ لَنَا مَالِكٌ : مُدُّنَا أَعْظَمُ مِنْ مُدِّكُمْ ، وَلَا نَرَى الْفَضْلَ إِلَّا فِي مُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ لِي مَالِكٌ : لَوْ جَاءَكُمْ أَمِيرٌ فَضَرَبَ مُدًّا أَصْغَرَ مِنْ مُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِأَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تُعْطُونَ ؟ قُلْتُ : كُنَّا نُعْطِي بِمُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَفَلَا تَرَى أَنَّ الْأَمْرَ إِنَّمَا يَعُودُ إِلَى مُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

نافع روایت:

ابن عمر رضی اللہ عنہما رمضان کا فطرانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے پہلے مد کے وزن سے دیتے تھے اور قسم کا کفارہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مد سے ہی دیتے تھے۔ابوقتیبہ نے اسی سند سے بیان کیا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا کہ ہمارا مد تمہارے مد سے بڑا ہے اور ہمارے نزدیک ترجیح صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے مد کو ہے۔ اور مجھ سے امام مالک نے بیان کیا کہ اگر ایسا کوئی حاکم آیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مد سے چھوٹا مد مقرر کر دے تو تم کس حساب سے (صدقہ فطر وغیرہ) نکا لو گے؟ میں نے عرض کیا کہ ایسی صورت میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے مد کے حساب سے فطرہ نکالا کریں گے؟ انہوں نے کہا کہ کیا تم دیکھتے نہیں کہ معاملہ ہمیشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے مد کی طرف لوٹتا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۷۱۳ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع مد نبوی ہے۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما رمضان کا فطرانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے مد کے وزن سے دیتے تھے، اور قسم کا کفارہ بھی اسی مد کے حساب سے دیتے تھے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے بھی اسی بات پر زور دیا کہ ترجیح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مد کو ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے ذریعے سمجھایا کہ اگر کوئی حاکم چھوٹا مد مقرر کر دے تو اصل معاملہ پھر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مد کی طرف لوٹے گا۔ یہ حدیث مد نبوی، صدقہ فطر، کفارہ یمین، اور اسلامی پیمانے کے موضوع پر بہت اہم ہے۔ اس کا پیغام یہ ہے کہ دینی مقدار میں معتبر معیار کو چھوڑ کر صرف مقامی یا بعد کے پیمانے پر اعتماد نہیں کیا جانا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صدقہ فطر اور کفارہ میں مد نبوی کو معیار بنایا گیا۔
  • دینی مقداروں میں اصل سنتی پیمانے کی طرف رجوع اہم ہے۔
  • بڑا یا چھوٹا مقامی پیمانہ اصل معیار کو بدل نہیں دیتا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں