صحیح بخاری حدیث ۶۷۱۷ - ولاء آزاد کرنے والے کا حق

ولاء کی حدیث: حق اسی کا جو آزاد کرے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۱۷

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَاشْتَرَطُوا عَلَيْهَا الْوَلَاءَ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " اشْتَرِيهَا ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .

عائشہ روایت:

´ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کے، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم بن عتبہ نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ` انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو (آزاد کرنے کے لیے) خریدنا چاہا، تو ان کے پہلے مالکوں نے اپنے لیے ولاء کی شرط لگائی۔ میں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خرید لو، ولاء تو اسی سے ہوتی ہے جو آزاد کرتا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۷۱۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع ولاء ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کرنے کے لیے خریدنا چاہا، مگر پہلے مالکوں نے ولاء اپنے لیے شرط رکھی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے خرید لو، کیونکہ ولاء اسی کے لیے ہے جو آزاد کرے۔ اس حدیث میں بریرہ کی حدیث، ولاء کا حکم، غلام آزاد کرنا، اور شرط کا مسئلہ واضح ہوتا ہے۔ اصل پیغام بہت سادہ ہے: آزادی دینے کا حق اور اس سے جڑا ولاء اسی شخص کے لیے ہے جس نے آزاد کیا۔ یہاں حدیث صرف اسی معاملے کو بیان کرتی ہے، اس لیے اس سے باہر غیر ضروری بحث نہیں کرنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ولاء کا حق آزاد کرنے والے کے لیے بیان ہوا ہے۔
  • غلط شرط لگائی جائے تو شرعی رہنمائی کے مطابق معاملہ دیکھا جائے گا۔
  • عائشہ رضی اللہ عنہا نے مسئلہ پیش کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف جواب دیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں