صحیح بخاری حدیث ۶۷۵۰ - لڑکا بستر والے کا حق ہے
لڑکا بستر والے کا ہے: نسب کی مختصر مگر اہم حدیث
صحیح بخاری : ۶۷۵۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۵۰
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ : أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْوَلَدُ لِصَاحِبِ الْفِرَاشِ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لڑکا بستر والے کا حق ہوتا ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۷۵۰ کا خلاصہ
یہ حدیث بہت مختصر ہے، مگر نسب کے باب میں اس کا مضمون نہایت صاف ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لڑکا بستر والے کا حق ہوتا ہے۔ اس سے بچے کے نسب کے معاملے میں ایک بنیادی اصول سامنے آتا ہے۔ جب کوئی بچہ ایسے گھر یا نکاح کے ماحول میں پیدا ہو جہاں بستر کا تعلق قائم ہو، تو نسبت اسی طرف مانی جاتی ہے۔ اس حدیث میں نہ لمبی تفصیل ہے نہ کوئی اضافی واقعہ، اس لیے اس کی شرح بھی اسی حد تک رہنی چاہیے۔ یہاں اصل بات بچے کا نسب، بستر کا حق، اور ولد للفراش کا اصول ہے۔ عام فہم انداز میں کہا جائے تو نسب کا فیصلہ محض دعوے پر نہیں، بلکہ شرعی اصول کے مطابق کیا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بچے کے نسب میں بستر والے کا حق معتبر ہے۔
- نسب کے معاملے میں مختصر مگر واضح شرعی اصول دیا گیا۔
- بچے کی نسبت صرف دعوے کی بنیاد پر تبدیل نہیں کی جاتی۔
