صحیح بخاری حدیث ۶۸۱۷ - بچہ فراش والے کا ہے اور سودہ رضی اللہ عنہا کو پردے کا حکم

الولد للفراش: نسب، گھر اور پردے سے متعلق حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۱۷

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " اخْتَصَمَ سَعْدٌ ، وَابْنُ زَمْعَةَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ " ، زَادَ لَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ اللَّيْثِ : " وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " .

عائشہ روایت:

سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما نے آپس میں (ایک بچے عبدالرحمٰن نامی میں) اختلاف کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عبد بن زمعہ! بچہ تو لے لے بچہ اسی کو ملے گا جس کی جورو یا لونڈی کے پیٹ سے وہ پیدا ہوا اور سودہ! تم اس سے پردہ کیا کرو۔“ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ قتیبہ نے لیث سے اس زیادہ کے ساتھ بیان کیا کہ زانی کے حصہ میں پتھر کی سزا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۸۱۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما کے درمیان ایک بچے کے بارے میں اختلاف کا ذکر ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے عبد بن زمعہ سے فرمایا کہ بچہ تمہارے لیے ہے، کیونکہ بچہ اسی کا ہوتا ہے جس کے فراش سے پیدا ہوا ہو۔ ساتھ ہی سودہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ تم اس سے پردہ کرو۔ روایت کے آخر میں یہ اضافہ بھی آیا کہ زانی کے لیے پتھر ہے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع نسب کا حکم ہے: الولد للفراش۔ متن سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے بچے کے نسب کا فیصلہ کیا اور ایک الگ احتیاطی حکم کے طور پر پردے کا حکم دیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بچے کا نسب فراش کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔
  • اختلاف کے وقت نبی صلى الله عليه وسلم نے واضح فیصلہ فرمایا۔
  • سودہ رضی اللہ عنہا کو اس شخص سے پردہ کرنے کا حکم دیا گیا۔
  • زانی کے حصے کے بارے میں روایت میں سخت لفظ آیا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں